نوادر الالفاظ

خاں آرزو سراج الدین علی

1876 | مزید

مصنف: تعارف

خاں آرزو سراج الدین علی

خاں آرزو سراج الدین علی

اردو شاعری میں استادوں کے استاد

"خان آرزو کو اردو پر وہی دعوی پہنچتا ہے جوکہ
ارسطو کو فلسفہ اور منطق پر ہے۔جب تک کہ کُل 
منطقی ارسطو کے عیال کہلائیں گے تب تک اہل ِ
اردو خان آرزو کے عیال کہلاتے رہیں گے"

                                     محمد  حسین آزاد

سراج الدین علی خان آرزو اردو اور فارسی زبانوں کے زبردست عالم،شاعر،ماہر لسانیات،نقّاد، فرہنگ نگار اور تذکرہ نویس تھے۔  مثنوی سحرالبیان کے مصنف میر حسن نے اپنے تذکرے میں کہا ہے کہ" امیر خسرو کے بعد آرزو جیسا صاحبِ کمال شخص ہندوستان میں نہیں پیدا ہوا "اور محمد حسین آزاد تمام اہل اردو کو خان آرزو کے عیال میں شمار کرتے پیں۔ آزاد کے جوش عقیدت کو ایک طرف رکھ دین تب بھی یہ حقیقت ہے کہ خان آرزو وہی شخص ہیں جن کی صحبت اور تربیت سے مظہر جانجاناں،میر تقی میر ،محمد رفیع سودا اور میر درد جیسے شعراء کو رہنمائی ملی۔ آرزو کے زمانہ تک فارسی کے مقابلہ میں اردو شاعری کو کمتر اور حقیر جانا جاتا تھا۔آزاد ،اردو کے لئے خان آرزو کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں " ان کے بارے اس قدر لکھنا کافی ہے کہ خان آرزو وہی شخص ہیں جن کے دامن تربیت سے ایسے شائستہ فرزند پرورش پا کر اٹھے جو زبان اردو کے اصلاح دینے والے کہلاے ۔۔۔ سودا خان آرزو کے شاگرد نہیں تھے مگر ان کی صحبت سے بہت فائدے حاصل کئے چنانچہ پہلے فارسی میں شعر کہا کرتے تھے ،خان آرزو نے کہا" مرزا! فارسی اب تمھاری زبان مادری نہیں۔اس میں ایسے نہیں ہو سکتے کہ تمھارا کلام اہل زبان کے مقابل میں قابل تعریف ہو۔طبع موزوں ہے،شعر سے مناسبت بھی رکھتی ہے ،تم اردو میں کہا کرو تو یکتاے زمانہ ہو گے"۔ خان آرزو میر تقی میر کے سوتیلے ماموں تھے اور والد کے انتقال کے بعد کچھ دن آرزو کے پاس گزارے تھے۔ میر کے کلام میں آرزو کی "چراغ ہدائت" کے نقوش جا بجا ملتے ہیں۔ خان آرزو بنیادی طور پر فارسی کے عالم اور شاعر تھے۔انھوں نے اردو میں کوئی دیوان نہیں چھوڑا۔ان کے اشعار تذکروں میں ملتے ہیں جن کی تعداد زیادہ نہیں لیکن جو بھی کلام دستیاب ہے وہ اردو شاعری کے ارتقاء کو سمجھنے کے حوالہ سے اک تاریخی دستاویز ہے۔ اردو میں ان کے اشعار کی تعداد پندرہ بیس سہی لیکن انھوں نے اہنے ہمنشینوں اور شاگردوں کو اردو کی طرف مائل کر کے اردو کا وقار بڑھایا۔ اور اردو پر سے داغ بے اعتباری کو ہمیشہ کے لئے دھو ڈالا۔

آرزو کا اک بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے ہندوستانی زبان کی لسانی تحقیق کی بنیاد رکھی اور جرمن مستشرقین سے بہت پہلے بتایا کہ سنسکرت اور فارسی ہمرشتہ زبانیں ہیں۔ وہ آج کی اصطلاح میں پکّے نیشنسلٹ تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب ایران کے فارسی داں عربی اور دوسری زبانوں کے الفاظ فارسی میں داخل کر سکتے ہیں تو ہندوستان کے فارسی داں ہندی الفاظ اس میں کیوں نہیں داخل کر سکتے۔ اس سلسلہ میں علی حزین کے ساتھ ان کا معرکہ کافی مشہور ہے۔ علی حزیں اک ایرانی شاعر تھے جو دہلی میں مقیم ہو گئے تھے۔ وہ نہائت مغرور تھے اور ہندوستانی شاعروں کی تضحیک کرتے تھے۔ ایک بار انھوں نے ہندوستانیوں کے محبوب فارسی شاعر بیدل کا مضحکہ اڑاتے ہوئے کہا کہ اگر بیدل کے شعر اصفہان میں پڑھے جائیں تو کوئی نہ سمجھے گا۔اس سے ہندوستانی شاعروں کو دکھ پہنچا لیکن خاموش رہ گئے،لیکن آرزو نے بیدل کا ڈٹ کر دفاؑع کیا اور حزین کے 400 اشعار کی بخیہ ادھیڑ کر رکھ دی ،حزیں کو دہلی سے بھاگنا پڑا۔اس سے آرزو کی علمیت اور ادبی مہارت کا اندازہ ہوتا ہے ۔انھوں نے اک روائتی شاعر ہونے کے باوجود روایت شکنی کی حوصلہ افزائی کی اور حیرت انگیز تنقیدی بصیرت کا ثبوت دیا۔ آرزو پہلے شخص تھے جنھوں نے دہلی میں بولی جانے والی کھڑی بولی کو اردو کا نام دیا۔ ان کے زمانہ تک اردو کا مطلب لشکر تھا ۔شاہجہاں اباد کو بھی لشکر کہا جاتا تھا ۔زبان اردو سے فارسی بھی مراد لی جاتی تھی۔خان آرزو نے پہلی نار نوادرالالفاظ میں۔اس بولی کے لئے جو دہلی میں بولی جاتی تھی لفظ اردو استعمال کیا۔

نوادرالالفاظ  میر عبدالواسع ہانسوی کی "غرائب الغات" کا اصلاح شدہ ایڈیشن ہے۔ غرائب الغات غیر اردو دانوں کے لئے اک اردو-فارسی لغت ہے۔ آرزو نے خاموشی سے اس کی غلطیاں درست کر کے اسے" نوادر الالفاظ" کا نام دیا۔ دوسری طرف مرزا غالب نے میر عبدالواسع کی ایک غلطی پکڑ کر اسے اسکینڈل بنا دیا ۔میر مذکور نے کہیں لکھا تھا کہ لفظ "نامراد"غلط ہے اسے "بے مراد" لکھا جانا چاہئے۔ غالب نے اس کی گرفت کس طرح کی دیکھئے۔ "۔وہ میاں صاحب ہانسی والے،بہت چوڑے چکلے،جناب عبدالواسع فرماتے ہیں کہ "بے مراد" صحیح "نامراد" غلط۔ ۔ ارے تیرا ستیاناس جاے۔ بے مراد اور نامراد میں وہ فرق ہے جو زمین و آسمان میں ہے۔نامراد وہ شخص ہے جس کی کوئی مراد،کوئی خواہش،کوئی آرزو بر نہ آوے۔ بے مراد وہ کہ جس کا صفحہ ء ضمیر نقوش مدعا سے سادہ ہو۔"(مکوب بنام صاحب عالم مارہروی)۔ہر گوپال تفتہ اور غلام غوث بےخبر کے نام خطوط میں بھی انھوں نے اس غلطی کو اچھالا۔ اس حوالہ کا مقصد اک عالم اور اک شاعر کے رویّون کا فرق ظاہر کرنا ہے۔

سراج الدین علیخاں آرزو 1786 میں گوالیر میں پیدا ہوئے۔ان کا بچپن گوالیار میں گزرا ۔جوانی میں وہ آگرہ چلے گئے جہاں ان کو با عزت جگہ ملی۔ کچھ عرصہ آگرہ میں رہنے کے بعد وہ دہلی منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے زندگی کا بیشتر حسہ گزارا ۔انھوں نے بارہ بادشاہوں کا زوال دیکھا۔ دہلی میں ان کو علمی اور دنیاوی ترقی ملی۔وہ محمد شاہ کے دربار کے اہم منصبدار تھے۔عمر کے آخری حصہ میں وہ فیض اباد چکے گئے اور وہیں ان کا انتقال ہوا۔بعد میں ان کے آثار دہلی لا کر دفن کئے گئے۔آرزو کی زندگی کا بیشتر حصہ تصنیف و تالیف اور درس و تدریس میں گزرا۔آرزو کا درس اس زمانہ میں مشہور تھا ۔کوئی طالب علم اپنے کو علم و ادب میں فارغ التحصیل نہیں سمجھتا تھا جب تک وہ آرزو کے حلقہ ء  درس میں شامل نہ ہو۔ ان کے دوستوں میں بندرابن خوشگو،ٹیک چند بہار اور آنند رام مخلص کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔آرزو نے چھہ دیوان مرتب کئے اس کے علاوہ شرح" گلستاں" خیابان کے نام سے،فارسی شعراء کا تذکرہ" مجمع النفائس" کے نام سے اور نوادرالغات،اردو- فارسی لغت مرتب کی۔ ان کی دوسری تصانیف میں سراج الغات (فارسی لغت)،چراغ ہدائت(فارسی الفاظ و محاورے)عطیہ ء کبری،معیار الافکار(قواعد)،پیام شوق(خطوط)،جوش وخروش (مثنوی) مہر و ماہ،عبرت فسانہ اور گلکاری ء خیال (ہولی پر طویل نظم) شامل ہیں۔

اردو کے حوالہ سے آرزو کا کانامہ یہی ہے کہ انھوں نے اپنے زمانے کے دوسرے شعراء کی سرپرستی کی اور اردو شعر گوئی کے فن کے لئے راہیں ہموار کیں۔ان کی حیثیت اک معمار کی ہے۔فارسی زبان کی آب و تاب کے سامنے اردو شاعری کا چراغ روشن کرنا آرزو کا بڑا کارنامہ ہے۔ انھیں اردو زبان کی فطری خوبیوں کا اندازہ اور مستقبل میں اس کے وسیع تر امکانات کی توقع تھی۔ان کی دور اندیشی درست ثاب ہوئی اور وہ زبان جس کی تخم ریزی انھوں نے دہلی میں کی تھی ،اک بارآور درخت میں تبدیل ہو گئی۔

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب