نیا ورق

ساجد رشید

ساجد رشید
2009 | مزید
  • ذیلی عنوان

    گوشۂ دہشت پسندی، ندا فاضلی، جینت پرمار : شمارہ نمبر-031

  • معاون

    انجمن ترقی اردو (ہند)، دہلی

  • موضوعات

    رساله

  • صفحات

    244

کتاب: تعارف

تعارف

رسالہ "نیا ورق" ایک سہ ماہی مجلہ ہے، جس کےبانی و مدیر ساجد رشید تھے۔ اس رسالے کا پہلا شمارہ جنوری تا مارچ ۱۹۹۷ میں منظرِ عام پر آیا۔ جولائی ۲۰۱۱ میں ساجد رشید کی وفات کے بعد ان کے فرزند شاداب رشید نے ادارت سنبھالی۔ ساجد رشید کی شناخت اردو ادب میں بطور افسانہ نگار اور صحافی کے ہے۔ آپ روزنامہ اردو ٹائمز کے مدیر بھی رہے۔ ساجد رشید کو شہرت ان کی بے باک صحافت، تیکھے سوالات، منطقی مباحث، ہندی اور مراٹھی زبانوں سے ترجمہ نگاری کی وجہ سے ملی۔ اپنے بے باک کالمز اور "نیا ورق" کے اداریوں سے انھوں نے معاشرہ میں بیداری پیدا کی، اور ترجمہ نگاری سے ہندی، مراٹھی اور اردو زبان کے درمیان لسانیاتی فاصلوں کو دور کیا۔ رسالہ "نیا ورق" ۲۰۰۰ کی دہائی کا نہایت اہم رسالہ تھا اور ممبئی کی اردو دنیا کا ترجمان تھا۔ اس کا نعرہ تھا، "قلم کار اور قاری کے درمیان پل۔" ساجد رشید نے اس ضمن میں خاصی محنت کی، ہندی اور مراٹھی زبان کے علاوہ غیر ملکی زبان کا ادب اس رسالے میں بڑے اختصاص کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ ابتدا میں اس کی قیمت ۲۵ روپے ماہانہ اور سو روپیہ سالانہ تھی، جو ۲۰۱۷ میں علی الترتیب ۵۰ اور دو سو روپے ہوگئی۔ اس رسالے کی ضخامت بالعموم ۲۵۰ صفحات ہوا کرتی ہے، لیکن خاص شماروں میں مزید سو صفحات بھی شامل کیے گئے ہیں۔ ساجد رشید کی معاونت رام پنڈت اور انور ظہیر خان کرتے تھے۔ نیا ورق کا دفتر، الوپورا بلڈنگ، عمر کھاڑی، کراس لین ممبئی ۹ ہے، یہیں شاداب رشید کا کتاب دار مرکز بھی ہے۔ اس رسالے کے مشمولات کچھ یوں ہوتے ہیں، ساجد رشید کا اداریہ: ساجد رشید کا اداریہ اور کالم جو انھوں نے نیا ورق اور اردو ٹائمز کے لیے لکھے وہ بے حد مقبول ہوئے، ان کی وفات کے بعد اسیم کاویانی نے انھیں جمع و ترتیب دے کر کتابی صورت میں شائع کیا، پھر دست خط کے عنوان سے منتخب شخصیت پر خصوصی مضمون، جس میں موصوف کے ادبی سفر کے متعلق معلومات ہوتی۔ کچھ تصاویر اور اقوال صفحوں کے درمیان پیش کیے جاتے جو قارئین کو ذہنی آسودگی و فرحت بخشتے ہیں۔ "نیا ورق" کے بیشتر رسالوں کو خاص نمبر کے بجائے خصوصی گوشوں کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ خصوصی گوشے موضوعاتی بھی ہوتے اور شخصی بھی۔ جیسے پہلے شمارے میں گوشۂ باقر مہدی کے تحت کچھ مضامین اور ان کی نظمیں پیش کی گئی ہیں، اور اسی شمارے میں مراٹھی ادب کے دیا پوار کی تخلیقات بھی پیش کی گئی ہیں۔ اس کےعلاوہ انشائیے، افسانے، نظمیں، غزلیں، رنگ منچ کے تحت ڈرامے اور آخری گوشہ تازہ مطبوعات پر تبصرے کا تھا۔ اس کے علاوہ "آج کی زندگی کا سچ" ایک ایسا گوشہ تھا جس میں عصری منظر نامے پر ہونے والی تبدیلوں اور تغیرات کے حوالے سے تخلیقات پیش کی جاتیں۔ یہ تخلیقات نظم کی صورت میں بھی ہوتیں اور نثر میں بھی۔ کچھ شماروں میں وفاتیہ اور خراجِ عقیدت کے لیے گوشے بھی مختص کیے گئے ہیں، اور معروف قلم کاروں کی تخلیقات کا تجزیہ بھی پیش کیا گیا ہے۔ "نیا ورق" نے گویا ہر طرح سے اپنے نصب العین، جو قلم کار اور قاری کے درمیان ایک پل قائم کرنا تھا، کو پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ "نیا ورق" میں شائع ہونے والے اہم نام یوں ہیں، ساجد رشید، انور ظہیر خان، عبدالاحد ساز، م ناگ، زبیر رضوی، ندا فاضلی، وشواس پاٹل، میڈھا پاٹکر، جاوید اختر، عذرا عباس، اسعد بدایونی، فضیل جعفری، اٹل بہاری واجپائی اور ارتضیٰ نشاط۔

.....مزید پڑھئے

ایڈیٹر کی مزید کتابیں

مزید

مشہور و معروف رسالے

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب