سوال نامہ اردو رسم الخط

آل احمد سرور

انجمن ترقی اردو (ہند)، علی گڑھ
1956 | مزید

کتاب: تعارف

تعارف

رسمِ خط کسی زبان کو لکھنے کی معیاری صورت کا نام ہے۔وہ زبانیں جو دائیں سے بائیں جانب لکھی جاتی ہیں ان کو سامی، سامی خاندان کی زبانوں کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔چنانچہ فارسی اور عربی زبان کو سامی زبان سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اردو کا رسم الخط بھی فارسی و عربی سے ماخوذ ہے۔ اردو کا رسم الخط گوکہ فارسی سے مستعار ہے مگر اس نے ہندوستان میں اپنا الگ رنگ وروپ اپنایا۔ زیر نظر کتاب در اصل انجمن ترقی اردو، ہندی کی جانب سے منعقد ہونے والے جلسے کا وہ سوال نامہ ہے جو رسم الخط کی اصلاح کے لیے منعقد ہوا تھا ۔ چنانچہ اصلاح رسم الخط کے لیے ماہرین کی کمیٹی نے یہ سوال نامہ تیار کیا تھا اور پھر ماہرین فن اور دل چسپی رکھنے والے حضرات کو یہ سوال نامہ ارسال کرکے 31 جولائی 1956 تک اس سوال نامہ کا مدلل جواب طلب کیے تھے تاکہ کمیٹی کے ماہرین جلسہ منعقد کرکے ان تجاویز پر غور کر کے اپنی رپورٹ تیار کر سکے۔اس سوال نامہ میں رسم الخط کے حوالے سے 15 اہم سوالات قائم کیے گئے تھے۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

آل احمد سرور

آل احمد سرور

آل احمد سرور 9 ستمبر 1911 کو بدایوں کے ایک ذی علم گھرانے میں پیدا ہوئے۔ 1928 میں ہائی اسکول پاس کیا۔ اس کے بعد سینٹ جانس کالج آگرہ سے بی ایس سی کی۔ 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ایم اے انگریزی میں داخلہ لیا۔ 1936 میں علیگڑھ ہی سے اردو میں بھی ایم اے کیا۔ 1938 میں شعبۂ اردو میں لکچرر ہوگئے۔ 1946  سے 1955  تک لکھنؤ یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1955  میں پھر علیگڑھ آگئے اور رشید احمد صدیقی کے بعد شعبے کے صدر رہے۔ 
 لکھنؤ میں اپنے قیام کے دوران سرور ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوئے اور انجمن کے جلسوں میں شریک ہونے لگے لیکن وہ کبھی بھی ترقی پسند نظریاتی جبر کا شکار نہیں ہوئے ۔ ان کی ترقی پسند فکر ہمیشہ انسان دوستی کی علمبردار رہی ، وہ سرمایہ داری اور رجعت پسندی کی مخالفت کرتے رہے لیکن ادب کے اس ہنگامی اور انقلابی تصور کے خلاف رہے جس کا پرچار اس وقت میں جوشیلے نوجوان کر رہے تھے۔ سرور نے مغربی اور مشرقی ادب کے گہرے مطالعے کے بعد اپنی تنقید نگاری کے لئے ایک الگ ہی انداز دریافت کیا۔ اس میں مغربی تنقیدی اصولوں سے استفادہ بھی ہے اور مشرقی اقدار کا رچاو بھی۔ 
تنقید نگار کے ساتھ ایک شاعر کے طور پر بھی سرور منفرد حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کی غزلوں اور نظموں میں فکر انگیزی، کلاسیکی رچاو اور جدید احساس کی تازہ کاری ملتی ہے۔ سرور کی تنقید اور شاعری کی متعدد کتابیں شائع ہوئیں۔ کچھ کے نام یہ ہیں۔ ’نئے اور پرانے نظریے‘ ’تنقید کیاہے‘ ’ادب اور نظریہ‘ ’مسرت سے بصیرت تک‘ ’اقبال کا نظریہ اور شاعری‘ ’ذوق جنوں‘ (شاعری) ’خواب باقی ہیں‘(خودنوشت)۔ 

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مزید

مقبول و معروف

مزید

کتابوں کی تلاش بہ اعتبار

کتابیں : بہ اعتبار موضوع

شاعری کی کتابیں

رسالے

کتاب فہرست

مصنفین کی فہرست

یونیورسٹی اردو نصاب