انیس الرحمان (18)

1950   |   Delhi

انیس الرحمن (پیدائش 1950) نے اپنی ابتدائی تعلیم شہر مظفر پور، صوبہ بہار، میں مکمل کی۔ پھر بہار یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں ایم اے اور پی اچ  ڈی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ درس و تدریس سے وابستہ ہو گئے۔ 1979 میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی میں لکچرر کی حیثیت سے مقرر ہوئے اور 2015 میں پروفیسر کی حیثیت سے وہاں کے فرائض سے سبکدوش ہوئے۔ ملازمت کے ساتھ ساتھ وہ ایک لمبے عرصے تک یونیورسٹی کے انتظامیہ سے بھی  وابستہ رہے ۔اسی دوران وہ یونیورسٹی آف البرٹا، کناڈا، میں شاستری فیلو اور پرڈیو یونیورسٹی، امریکا، میں رسرچ سکالر بھی رہے۔ جامعہ کی ملازمت سے سبکدوشی کے بعد وہ ریختہ فاؤنڈیشن سے بحیثیت سینیر اڈواءزر 2020 تک وابستہ رہے اور وہاں اپنے فرائض انجام دیتے رہے۔

انیس الرحمن نے تقابلی مطالعات، پوسٹ کولونیل ادبیات، ادبی تراجم اور بو طیقا کے میدانوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے ہیں۔ یہی ان کی شناخت کا بنیادی حوالہ بھی ہیں۔ جنوب ایشیا، کناڈا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے ادبیات پر ان کی تنقیدی مطبوعات قدر کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔۔ وہ  انگریزی میں پانچ تنقیدی کتابوں کے مصنف ہیں۔ ان کے علاؤہ انہوں نے پانچ دیگر تنقیدی کتابیں  مرتب کی ہیں اور اُردو شاعری کے انگریزی میں تراجم پر مشتمل دو کتابیں بھی شائع کی ہیں۔۔ انگریزی میں ان کی شاعری کا مجموعہ Earthenware منظر عام پر آ چکا یے اور اب ان کی اردو شاعری کی کتاب ترتیب کے مراحل میں ہے۔

2019 میں انہوں نے سولہویں صدی سے اب تک کی نمائندہ اُردو غزلوں کا ایک انتخاب اور ان کے انگریزی تراجم پر مشتمل ایک مکمل کتاب Hazaaron Khwahishein Aisi: The Wonderful World of Urdu Ghazals شائع کی جسے بین الاقوامی ادبی اؤر تنقیدی حلقوں میں خاطر خواہ مقبولیت حاصل ہوئی۔ نظموں پر مشتمل اس کتاب کا دوسرا حصہ اب اشاعت کے مراحل میں ہے۔ سفر کی آخری منزل پر میر اور غالب ان کی خاص توجہ کا مرکز ہیں۔ اب وہ ان کے منتخب اشعار کے انگریزی تراجم اور ان کی تشریحات ہر کام کر رہے ہیں۔

رشتہ داروں جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی (تعلیمی ادارہ)

ترتیب بہ اعتبار فلٹر

فلٹر سارے مٹائیں

اشاعت کا سال

سارے دیکھیں

مصنف

سارے دیکھیں

ناشر

سارے دیکھیں

زبان

بولیے