Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

شہناز مزمل (25)

1948   |   Lahore

شناخت: ممتاز شاعرہ، ادیبہ اور 'ادب سرائے' کی بانی

شہناز مزمل 1948ء میں فیصل آباد کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مزمل حسین قادری (حشر القادری) خود ایک قادر الکلام شاعر تھے، جن کی تربیت نے شہناز کے شعری ذوق کو جلا بخشی۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی کا آغاز بطور لائبریرین کیا اور ماڈل ٹاؤن لائبریری سمیت قائدِ اعظم لائبریری لاہور کی منتظمِ اعلیٰ جیسے اہم عہدوں پر فائز رہیں۔

شہناز مزمل کا شعری اسلوب عفت، پاکیزگی اور شائستگی کا عکاس ہے۔ ان کی شاعری روایتی عشقیہ مضامین کے بجائے فکر و شعور، انسانی ہمدردی اور معاشرتی اقدار کی پاسداری پر مبنی ہے۔ ایک خاتون ہونے کے ناطے انہوں نے اپنی شاعری میں عورت کے حقوق اور سماجی جبریت کی بھی بھرپور وکالت کی ہے۔

ادبی خدمات کے ساتھ ساتھ شہناز مزمل نے نئے لکھنے والوں کی آبیاری کے لیے اپنی رہائش گاہ پر "ادب سرائے" کے نام سے ایک مستقل پلیٹ فارم قائم کر رکھا ہے، جہاں ملک کی نامور ادبی شخصیات شرکت کرتی ہیں۔ ان کی اب تک 15 شعری مجموعے اور 7 نثری کتب شائع ہو چکی ہیں، جن میں 'نورِ کل'، 'قرضِ وفا'، 'جادہ عرفان' اور 'کتابیاتِ اقبال' قابلِ ذکر ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں "سلمیٰ تصدق ایوارڈ" سمیت متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔

ترتیب بہ اعتبار فلٹر

فلٹر سارے مٹائیں

اشاعت کا سال

سارے دیکھیں

ناشر

سارے دیکھیں

درجہ بندی

بولیے