Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مصنف : نذیر فتح پوری

اشاعت : 001

ناشر : اسباق پبلی کیشنز، پونہ

مقام اشاعت : لندن, برطانیہ

سن اشاعت : 2019

زبان : اردو

موضوعات : تحقیق و تنقید

ذیلی زمرہ جات : شاعری تنقید

صفحات : 185

معاون : احسن ضیا

امجد مرزا امجد کا تخلیقی منظرنامہ
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: ادیب، نقاد، محقق، شاعر، مدیر

اردو ادب کی دنیا میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پوری زندگی قرطاس و قلم کی نذر ہو جاتی ہے۔ نذیر فتح پوری اسی فہرست کا ایک معتبر نام ہیں، جنہیں بلا مبالغہ 'ادب کا درویش' اور 'اردو کا سچا سپاہی' کہا جا سکتا ہے۔ آپ نے نہ صرف پونہ (مہاراشٹر) میں اردو کی شمع روشن کی بلکہ اپنی تحریروں کے ذریعے پورے برصغیر کے ادبی حلقوں میں اپنی شناخت قائم کی۔

نذیر فتح پوری کا اصل نام نذیر احمد ہے۔ آپ کی ولادت یکم دسمبر 1946ء کو راجستھان کے ضلع سیکر کے تاریخی قصبے فتح پور شیخاوتی میں ہوئی۔ یہ علاقہ اپنی علمی اور ثقافتی زرخیزی کے لیے مشہور ہے۔ نذیر احمد نے ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی، تاہم اعلیٰ تعلیم اور روزگار کے سلسلے میں آپ نے مہاراشٹر کا رخ کیا اور پونہ کو اپنا مسکن بنا لیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج آپ کی شخصیت پونہ کی ادبی پہچان بن چکی ہے۔

نذیر فتح پوری ایک ہمہ جہت فنکار ہیں۔ آپ بیک وقت شاعر، افسانہ نگار، ناول نگار، محقق، نقاد اور مدیر ہیں۔ آپ کا تخلیقی سفر 1970ء کی دہائی میں شروع ہوا جو آج نصف صدی گزرنے کے بعد بھی پوری توانائی کے ساتھ جاری ہے۔ اب تک آپ کی 100 سے زائد کتب منظر عام پر آ چکی ہیں، جو آپ کی انتھک محنت اور اردو زبان سے عشق کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔

آپ کا ناول "یہ میں ہوں" (2021) انسانی نفسیات اور معاشرتی زوال کی عکاسی کرتا ہے۔ افسانوی مجموعہ "اور خون جلتا رہا" آپ کے نثری اسلوب اور سماجی شعور کا شاہکار ہے۔

"ادبی تناظر میں اردو" اور "پونہ میں اردو ادب کی روایت" جیسی کتب نے تحقیقی میدان میں آپ کے قد و قامت کو بلند کیا۔

آپ برسوں سے ادبی رسالہ "اسباق" کی ادارت کر رہے ہیں، جس نے بے شمار نئے لکھنے والوں کی تربیت کی ہے۔

نذیر صاحب کے ادبی تعلقات نہایت وسیع ہیں۔ ڈاکٹر منصور خوشتر (مدیر دربھنگہ ٹائمز) اور پروفیسر مناظر عاشق ہرگانوی سے آپ کا گہرا قلبی اور ادبی رشتہ رہا۔ کرونا کی وبا کے دوران، جب دنیا تھم گئی تھی، آپ نے مناظر عاشق ہرگانوی کے نام روزانہ خطوط لکھنے کا سلسلہ شروع کیا۔ ان پچاس خطوط کا مجموعہ "مناظر عاشق ہرگانوی کے نام پچاس خط" کے عنوان سے شائع ہوا، جو اس عہد کے دکھوں اور ادبی مکالمے کی ایک اہم دستاویز ہے۔

آپ کی ادبی خدمات کے اعتراف میں آپ کو متعدد ریاستی اور قومی اعزازات سے نوازا گیا۔ دربھنگہ کے سفر کے دوران آپ کو المنصور ٹرسٹ کی جانب سے "اویس احمد درانی ایوارڈ" دیا گیا۔ آپ کی شخصیت پر اب تک مختلف محققین کی 30 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جو اس بات کی دلیل ہے کہ علمی حلقے آپ کے کام کو کس قدر اہمیت دیتے ہیں۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے