aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
برصغیر ہندو پاك كے عظیم ترین علما میں شمار شاہ ولی اللہ محدث دہلوی كی سیرت و تصانیف ہر مسلمان كے یہاں قدر كی نگاہوں سے دیكھی جاتی ہیں۔وہ بلاشبہ اٹھارہویں صدی كےمجدد تھے۔آپ نے متعدد كتابیں اور رسالے لكھے۔ "انفاس العارفین"میں بزرگان دین كے احوال بیان كیے گئے ہیں۔بالخصوص اپنے والد ماجد كی سوانح حیات ،انبیاء سابقین علیہم السلام سے فیوض و بركات حاصل ہونے كا تذكرہ،اولیا اللہ كی تلاش میں گھومنا عشق خداوندی اور اشتیاق معرفت یزدی كا نشان ہے۔اس كے علاوہ بزرگان دین كا طالبان حق كو اپنے فیوض و بركات عطا كرنا،ریاضت اور مجاہدہ كی تعلیم دینا،عالم برزخ میں اولیا كرام كی مجالس مباركہ منعقد ہونا وغیرہ كی تفصیلات كتاب ہذا میں موجود ہیں جس سے اولیاءكرام كا بلند و اعلیٰ مرتبہ واضح ہوتا ہے۔كتاب كا مطالعہ ان باتوں كی تصدیق كرتا ہے كہ اولیاء اللہ كا روحانی تصرف برحق اوراولیاء اللہ اپنی قبور میں زندہ ہیں اور وہ دنیا والوں كو ندا دیتے ہیں اور انھیں علم كاادراك بھی ہے۔
شناخت: عظیم محدث، مفسرِ قرآن، فقیہ، مجددِ ملت، برصغیر کے نامور اسلامی مفکر اور تحریک ولی اللہی کے بانی
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ برصغیر کے اُن جلیل القدر علما میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے زوال پذیر مسلم معاشرے میں قرآن، حدیث اور فقہ کی بنیاد پر فکری و دینی احیا کی عظیم تحریک کی بنیاد ڈالی۔ آپ کو ’’حکیم الامت‘‘ اور ’’مجددِ ملت‘‘ جیسے معزز القابات سے یاد کیا جاتا ہے۔
آپ شوال 1114ھ بمطابق فروری 1703ء میں موضع پھلت، ضلع مظفر نگر (ہند) میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد شاہ عبد الرحیمؒ ایک جلیل القدر عالم، صوفی اور فتاویٰ عالمگیری کے معاون تھے اور مدرسہ رحیمیہ کے بانی بھی تھے۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ کی ابتدائی تعلیم و تربیت والد ہی کی نگرانی میں ہوئی۔ کم سنی ہی میں قرآن، حدیث، فقہ، منطق اور عربی و فارسی علوم میں مہارت حاصل کر لی اور نوعمری میں ہی تدریس کے منصب پر فائز ہو گئے۔
والد کی وفات کے بعد سترہ برس کی عمر میں مدرسہ رحیمیہ کی مسند سنبھالی اور بارہ سال تک دینی و عقلی علوم کی تدریس میں مشغول رہے۔ آپ کی زندگی نظم، محنت، عبادت، تصنیف اور اصلاحِ امت کا عملی نمونہ تھی۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن کریم کی فہم و اشاعت ہے۔ آپ نے قرآن مجید کا فارسی ترجمہ ’’فتح الرحمٰن‘‘ کے نام سے کیا تاکہ عام لوگ کلامِ الٰہی کو سمجھ سکیں۔ علومِ قرآن پر آپ کی شہرۂ آفاق کتاب الفوز الکبیر فی اصول التفسیر آج بھی بنیادی ماخذ کی حیثیت رکھتی ہے۔
حدیث، فقہ اور تصوف میں بھی آپ نے اعتدال اور تحقیق کی راہ اختیار کی۔ تقلیدِ جامد کے بجائے قرآن و سنت کی روشنی میں مذاہبِ فقہیہ کا تقابلی مطالعہ کیا اور جس قول کو اقرب الی السنۃ پایا، اسے اختیار کیا۔ آپ کی تصنیف حجۃ اللہ البالغہ اسلامی فکر کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے۔
سیاسی و سماجی اعتبار سے بھی آپ اپنے عہد کے نباض تھے۔ مسلمانوں کے زوال، معاشی ناانصافی اور فکری انحطاط پر گہری نظر رکھی اور اصلاحِ احوال کے لیے قرآن پر مبنی نظامِ حیات پیش کیا۔
آپ کے چار صاحبزادے، شاہ عبدالعزیزؒ، شاہ رفیع الدینؒ، شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ عبدالغنیؒ، اپنے وقت کے ممتاز علما میں شمار ہوئے اور آپ کی علمی تحریک کو آگے بڑھایا۔
وفات: حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے 29 محرم 1176ھ بمطابق 20 اگست 1762ء کو دہلی میں وفات پائی اور مہندیان کے قبرستانِ محدثین میں مدفون ہوئے۔