aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
"فتوح الغیب" شیخ عبدالقادر جیلانی کی تصنیف ہے۔یہ علم تصوف و معرفت پر معرکتہ الاراء کتاب ہے۔جو مضامین قرانی اور اسرار طریقت سے معمور ہے۔جو کئی مقالات پر مشتمل ہے۔کتاب میں شامل ہر مقالہ معرفت کا عکاس ہے۔کتاب میں عبدلقادر جیلانی ؒ کے اٹھتر وعظ ہیں جو انھوں نے مختلف موقعوں پر ارشاد فرمائے تھے۔جس کا مطالعہ جہاں قاری کے ایمان کو تازگی عطاکرتا ہےوہیں صحیح اعمال وعقائد پر عمل بھی کراتا ہے۔اس کتاب کو شیخ نے اپنے صاحبزادے کی تعلیم و تربیت کے لئے ترتیب دی تھی۔ اس کتاب کے کئی ترجمے ہوچکے ہیں۔ زیر نظر انگلش ترجمہ ہے جس کو آفتاب الدین صاحب نے انجام دیا ہے۔ اس کتاب کے کئی ترجمے ہوچکے ہیں۔ زیر نظر اردو ترجمہ ہے جو کافی قدیم ہے۔ اس ترجمہ کو مقالات کی شکل میں انجام دیا گیا ہے۔ اس ترجمہ کو کافی اعتبار حاصل ہے۔
شیخ عبد القادر جیلانیؒ (تقریباً ۴۷۰ھ / ۱۰۷۷ء تا ۵۶۰ھ / ۱۱۶۶ء) تصوف اور اسلامی روحانیت کی تاریخ میں ایک غیر معمولی مقام رکھتے ہیں۔ ان کا اصل نام محی الدین ابو محمد عبد القادر بن ابو صالح موسٰی الجیلانی ہے۔ نسب کے اعتبار سے آپ کی ذات حسنی و حسینی شرافت کا سنگم ہے اور اسی بنا پر آپ کو غوث الاعظم کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔ آپ کی ولادت ایران کے شہر جیلان میں ہوئی اور ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے بغداد کا رخ کیا جو اُس وقت علمی و دینی اعتبار سے مرکزِ علم تھا۔ بغداد میں آپ نے فقہ، حدیث، تفسیر اور منطق جیسے علوم میں مہارت حاصل کی۔ آپ کا زہد، تقویٰ اور علم جلد ہی اہلِ بغداد کے لیے باعثِ عقیدت بن گیا۔
شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی تعلیمات میں شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ آپ نہ صرف باطن کی اصلاح کے قائل تھے بلکہ ظاہری احکامِ شریعت پر بھی سختی سے کاربند رہے۔ ان کا موقف تھا کہ تصوف، قرآن و سنت کے دائرے سے باہر نہیں نکل سکتا۔ آپ کے نزدیک عبادت کا مقصد صرف ظاہر میں قیام نہیں بلکہ دل کی حضوری اور اخلاص کی طلب ہے۔ تصوف کی راہ میں آپ نے توکل، اخلاص، ذکر، مراقبہ اور محبتِ رسول ﷺ کو بنیادی اصول قرار دیا۔ آپ کی خانقاہ بغداد میں روحانی تربیت کا ایسا مرکز بن گئی جہاں مختلف خطوں سے لوگ سلوک و معرفت کے لیے آتے اور آپ کے فیضان سے فیضیاب ہوتے۔
شیخ جیلانیؒ کی علمی خدمات بے حد وسیع ہیں۔ آپ کی تصانیف میں فقہ، روحانیت، اخلاق اور معرفتِ الٰہی جیسے مضامین کا گہرا امتزاج پایا جاتا ہے۔ ریختہ کی ویب سائٹ پر آپ سے منسوب چند اہم کتب دستیاب ہیں جن میں غنیۃ الطالبین، اورادِ قادریہ، دیوانِ غوثِ اعظم، سرّ الاسرار، الفتح الربانی والفیض الرحمانی اور فتوح الغیب شامل ہیں۔ غنیۃ الطالبین میں عبادات، اذکار اور دینی احکام کو صوفیانہ تفسیر کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ سرّ الاسرار ایک مختصر مگر عمیق کتاب ہے جو سالک کے روحانی سفر کی رہنمائی کرتی ہے، جبکہ فتوح الغیب میں نفس کے تزکیے اور قربِ الٰہی کے مراحل کی تشریح ملتی ہے۔ ان کتب کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ آپ کی فکر میں ظاہری علم اور باطنی بصیرت کا گہرا ربط موجود ہے۔
تحقیقی مطالعے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ شیخ عبد القادر جیلانیؒ نے تصوف کو بدعتوں سے پاک کر کے اسے ایک علمی و عملی نظام کی صورت میں پیش کیا۔ آپ کی تحریروں میں عقل، وحی، تجربہ اور مشاہدہ سب یکجا نظر آتے ہیں۔ اہلِ سنت و جماعت کے اصولوں پر استوار ان کی تعلیمات نے تصوف کو ایک منظم اور متوازن جہت عطا کی۔ تاہم جدید تحقیق اس امر کی بھی متقاضی ہے کہ ان سے منسوب بعض روایات اور تصانیف کے اسناد و متون پر نظرِ ثانی کی جائے تاکہ تاریخی حقائق واضح رہیں۔
شیخ جیلانیؒ کی فکر اور عمل کا محور بندگی، اخلاق اور معرفت ہے۔ ان کے نزدیک ولایت کا مفہوم طاقت یا کرامت نہیں بلکہ خدمت، انکسار اور ایمان کی پختگی ہے۔ آج بھی ان کی تعلیمات مسلمانوں کے فکری و روحانی ارتقا کے لیے رہنما ہیں۔ ان کی درگاہ بغداد میں آج بھی اہلِ دل کے لیے مرکزِ سکون و اطمینان ہے۔ شیخ عبد القادر جیلانیؒ کی حیات و تعلیمات محض ماضی کا ورثہ نہیں بلکہ ایک ایسی روحانی روایت ہیں جو عصرِ حاضر میں بھی انسان کو حق و صداقت کی طرف رہنمائی کرتی ہیں۔