Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

रद करें डाउनलोड शेर

संपादक : डॉ. अक़ील अहमद

अंक : 028

खंड संख्या : 14

प्रकाशक : डॉ. अक़ील अहमद

मूल : नई दिल्ली, भारत

प्रकाशन वर्ष : 2019

भाषा : Urdu

पृष्ठ : 114

सहयोगी : सादिक़

महीना : June, November

जहान-ए-ग़ालिब
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

पत्रिका: परिचय

"جہانِ غالب" غالب اکیڈمی دہلی کا ترجمان ہے۔ یہ ایک ششماہی رسالہ ہے جس کا پہلا شمارہ دسمبر ۲۰۰۵ میں شائع ہوا۔ اس رسالے کے ایڈیٹر، پرنٹر اور پبلشر غالب اکیڈمی کے سکریٹری ڈاکٹر عقیل احمد ہیں۔ پہلے شمارہ کی قیمت فی پرچہ ۲۵ روپے تھی جسے بعد ازاں ۲۰ روپے کردیا گیا۔ یہ رسالہ غالب اکیڈمی، بستی حضرت نظام الدین دہلی، ۱۳ سے شائع ہوتا ہے۔ چوںکہ رسالے کا براہِ راست تعلق غالب اکیڈمی سے ہے لہٰذا اس ادارے کے اغراض و مقاصد کا بیان دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ "غالب اکیڈمی" کا قیام بیسویں صدی کے وسط میں حکیم عبد الحمید نے کیا۔ اس سوسائٹی میں کرنل بشیر حسین زیدی، ڈاکٹر یوسف حسین خاں، قاضی عبدالودود، مالک رام، کنور مہدی سنگھ بیدی، خواجہ احمد فاروقی، پرتھوی چند، گوپی ناتھ امن، خواجہ غلام السیدین وغیرہ شامل ہوئے۔ اس سوسائٹی کا رجسٹرڈ آفس ہمدرد منزل لال کنواں دہلی -۶ میں تھا۔ سوسائٹی کے صدر حکیم عبد الحمید صاحب نے مزارِ غالب سے ملحق قطعہ اراضی خرید کر وہاں غالب اکیڈمی کی عمارت تعمیر کروائی۔ جس کا افتتاح اس وقت کے صدرِ جمہوریہ ذاکر حسین کے ہاتھوں ۲۲ فروری ۱۹۶۹ کو ہوا۔ غالب اکیڈمی کا مقصد، درون و بیرون ملک میں یاد گارِ غالب اور اس سے متعلق اثاثوں کی حفاظت ہے۔ اس مقصد کے پیشِ نظر غالب میوزیم، غالب لائبریری اور آڈیٹوریم بھی بنائے گئے، اور مختلف تقریبات کے ذریعے اس کی بر آوری کی جاتی ہے۔ اکیڈمی کے بانی، حکیم عبد الحمید کی تمنا تھی کہ اکیڈمی کا اپنا ایک ادبی رسالہ بھی ہو اور اس کے لیے انھوں نے "جہانِ غالب" کا نام تجویز کیا تھا۔ وہ کہتے تھے کہ اس نام میں بڑی وسعت ہے۔ اکیڈمی میں جو پروگرام ہوتے ہیں، اور جو مقالے یہاں پڑھے جاتے ہیں، اس کے علاوہ دنیا بھر میں غالب کے تعلق سے جو قابلِ قدر کام ہوتے ہیں وہ اس رسالے میں شائع ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ اکیڈمی کی سرگرمیاں اور غالب کے ہم عصر اور کلاسیکل اردو شعرا سے متعلق مضامین و مقالے بھی اشاعت پذیر ہوتے ہیں۔ اس رسالے کی ترتیب یوں تھی۔ سرِورق پر ٹائٹل کے ساتھ مرزا غالب کی رنگین تصویر، اندرون میں ٹائٹل کے ساتھ یادگارِ حکیم عبد الحمید،نگراں خواجہ حسن نظامی ثانی اور مدیر عقیل احمد کے ساتھ شمارہ نمبر، اگلے صفحے پرفہرست، پھر غالب کی بلیک اینڈ وائٹ ایک اور تصویراور پھر اداریہ کے تحت شمارے میں شامل مضامین کا اجمالاً جائزہ اور پھر مضامین اور سرگرمیاں وغیرہ۔ مضامین ۱۰ سے زیادہ نہ ہوتے اور اس طرح یہ رسالہ سو، سوا سو صفحات پر محیط ہوتا تھا۔ "جہانِ غالب" میں شامل زیادہ تر مضامین کی نوعیت ادبی اور تنقیدی ہوتی تھی۔ مثلا ً جمالیاتِ غالب، ۱۸۵۷ کے واقعات اور غالب، ڈپٹی نذیر احمد کی نثر نگاری،عہدِ حاضر کے ایران میں غالب کی شناخت، بیسوی صدی پر غالب کی شاعری کے اثرات، غالب اور طبِ قدیم، غالب کا سائنسی شعور وغیرہ۔ ان میں زیادہ تر مقالہ جات وہ ہوتے جو اکیڈمی کے پروگراموں میں پڑھے جاتے۔ اس رسالے کے دوسرے شمارے میں صدرِ جمہوریہ ذاکر حسین کی پر مغز تقریر بھی شامل کی گئی تھی جو انھوں نے افتتاح کے موقع پر کی تھی۔ "جہانِ غالب" میں چھپنے والے زیادہ تر مضامین معروف تنقید نگاروں اور غالب شناسوں کے ذریعے پیش کیے جاتے تھے۔ رسالے میں شائع ہونے والے اہم نام یوں ہیں۔ عقیل احمد، شہناز پروین، پروفیسر شکیل الرحمٰن، شمیم حنفی،قاضی افضال حسین،شمس بدایونی،مسعود احمد برکاتی،ارجمند آرا،علی احمد فاطمی،شمس الرحمٰن فاروقی، احمد محفوظ، اسلم پرویز، زبیر رضوی وغیرہ۔

.....और पढ़िए
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

संपादक की अन्य पुस्तकें

संपादक की अन्य पत्रिकाएं यहाँ पढ़ें।

सबसे लोकप्रिय पत्रिकाएँ

सर्वाधिक लोकप्रिय पत्रिकाओं के इस तैयार-शुदा संग्रह को ब्राउज़ करें और अगली सर्वश्रेष्ठ पठन की खोज करें। आप इस पृष्ठ पर लोकप्रिय पत्रिकाओं को ऑनलाइन ढूंढ सकते हैं, जिन्हें रेख़्ता ने उर्दू पत्रिका के पाठकों के लिए चुना है। इस पृष्ठ में सबसे लोकप्रिय उर्दू पत्रिकाएँ हैं।

पूरा देखिए

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
बोलिए