مصنف: تعارف

صفدر ہمدانی لاہور کے ایک علمی اور ادبی گھرانے میں 17 نومبر 1950 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مصطفی علی ہمدانی ممتاز براڈ کاسٹر تھے جنہوں نے تیرہ اور چودہ اگست کی درمیانی رات لاہور ریڈیو سے پاکستان کی آزادی کا اعلان کیا۔ صفدر ہمدانی نے ابتدائی تعلیم لاہور میں ہی حاصل کی اور گریجویشن بھی ایف سی کالج، لاہور سے کی۔ اس کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم۔ اے کیا۔ 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسر وابستہ ہوئے۔ دورانِ ملازمت ریڈیو اکیڈمی میں بھی خدمات انجام دیں اوربیرون ملک ریڈیو پالینڈ اور چار سال تک ریڈیو جاپان میں بھی خدمات انجام دیں۔ نیز جب 1992 میں برطانیہ میں رہائش اختیار کی تو تقریباً بیس برس تک بی بی سی اردو سے وابستہ رہے ہیں۔ صفدر ہمدانی پچھلےلگ بھگ تین عشروں سے برطانیہ سرے میں سکونت پزیر ہیں اور وہیں سے پہلے چار سال تک القمر آن لائن اور پھر 2008 میں عالمی اخبار کے نام سے ای-اخبار کا اجرا کیا ہے۔

صفدر ہمدانی نے براڈ کاسٹنگ کے ساتھ ساتھ قلمی سفر کو بھی جاری رکھا اور انہوں نے غزل، نظم ،نعت، منقبت و مرثیہ کی صنف میں بھی مسلسل لکھا۔ خصوصا مرثیہ گوئی کے باعث انہیں شاعرِ آلِ عبا کا خطاب ملا ہے۔ مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ اب تک یورپ، امریکا اور مشرقِ وسطی کے بہت سے ممالک میں جا چکے ہیں

تصنیف و تالیف
" کفن پہ تحریریں " ( غزلوں کا پہلا مجموعہ ) لاہور، 1974ا
" فرات کے آنسو " ( مرثیوں کا مجموعہ )2003
" نورِ کربلا " (عزائی شاعری پہ تحقیق)2003
" معجزہِ قلم " ( رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ ) 2004
" کلیاتِ حسین " حسن عباس زیدی مرحوم کی شاعری کی کلیات 2005 میں ان کی تالیف اور تدوین سے طبع ہوئی ۔
" تہران ہو گر عالمِ مشرق کا جنیوا " انکا پہلا سفر نامہ شائع ہوا۔ اگست 2006
" زینتِ ہستی " ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے۔2007
"عطائے رضا " کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔2007
جہانِ نعت (انٹرنیٹ ایڈیشن )
رو رہا ہے آسمان " مرثیوں کاایک اور مجموعہ(زیرِ ترتیب )
" بادل۔ چاند اور میں " غزلوں کا مجموعہ(زیرِ ترتیب )
" گونگی آنکھیں "غزلوں کا مجموعہ(زیرِ ترتیب )
صفدر ہمدانی کی شخصیت و فن پر تحقیقی مقالات
2012 میں ایجوکیشنل یونیورسٹی لاہور سے ایم اے آر بی ایڈ فائنل کی ایک طالبہ مس مصباح ا اعظم نے جناب ہمدانی صاحب کی معیاری اور دل سوز ’’ مرثیہ نگاری ‘‘ پر تحقیقی تھیسس لکھ کر کامیابی حاصل کی ہے یہ تھیسس ایک کتاب کی شکل میں چھَپ چکی ہے۔سیدہ ثمر جعفری نے سیشن 2016- 2018 میں اپنا ایم فل کا مقالہ بعنوان صفدر ہمدانی کی ادبی خدمات گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے مکمل کر کے کامیابی حاصل کی ہے۔
شاعر،ادیب،محقق،استاد،ماہر نشریات اور عالمی اخبار کے مدیر اعلیٰ صفدر ھمدانی کی ادبی خدمات کے حوالے سے ننکانہ صاحب کی سیدہ ثمر جعفری نے اپنا ایم فل کا مقالہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے مکمل کر کے کامیابی حاصل کی ہے اور اب انہیں کانووکیشن میں ایم فل کی ڈگری ملی ہے۔ یدہ ثمر جعفری اردو ادب کی استاد ہیں اور اپنے ایم فل کے اس مقالے کے لیئے انہوں نے لگ بھگ دو برس تک تحقیق اور تدوین و تخلیق کا کام کیا۔ اس مقالے کے لیئے انکے نگران معروف لکھاری محقق اور نگران ڈاکٹر محمد ہارون قادر تھے جنہوں نے ہر قدم پر ثمر جعفری کی رہنمائی کی۔ برطانیہ میں مقیم محقق ذیشان زیدی نے ایک تحقیقی مقالے میں صفدر ھمدانی کے بارے میں لکھا ہے

 1950 کو پیدا ہوئے۔ صفدرؔ ھمٰدانی کے پردادا ایران کے شہر ھمٰدان سے ہجرت کر کے پاکستان آے تھے۔ والد محترم جناب مصطفیٰ ھمٰدانی تھے جنہوں نے 13 اور 14 اگست کی رات ٹھیک 12 بجے لاہور میں واقع پاکستان براڈکاسٹنگ سروس سے قیام پاکستان کی خوشخبری سنائی تھی۔ وہ ایک بہترین شاعر بھی تھے اور اردو کے علاوہ فارسی میں بھی مشق سخن کرتے تھے. صفدر ھمٰدانی نے اپنے والد گرامی کو چار مصرعوں میں یوں خراج عقیدت پیش کیا
ہم مناتے ہیں جو یہ روز سعید
سچ تو یہ آزاد لوگوں کی ہے عید
قبر میں تا حشر صفدر اس کی نور
صبح آزادی کی دی جس نے نوید
صفدر ھمٰدانی نے ایف سی کالج سے گریجویشن کے بعد جامعہ پنجاب سے صحافت میں ایم اے کیا اور 1973 میں ریڈیو پاکستان سے بطور پروڈیوسر وابستہ ہوگئے. صفدر ھمٰدانی نے ریڈیو پاکستان میں اپنی ملازمت کے دوران ریڈیو کی اکیڈیمی کے علاوہ ریڈیو ہالینڈ اور تین برس سے زائد عرصے تک ریڈیو جاپان میں بھی خدمات سرانجام دیں ہیں .انکی غزلوں کا پہلا مجوعہ’ کفن پہ تحریریں’ 1974 میں لاہور میں شائع ہوا تھا اور بعد ازاں مختلف تصانیف کی اشاعت کے بعد 2003 میں انکی کتابیں ‘فرات کے آنسو’.مرثیوں کا مجموعہ.نورِ کربلا عزائی شاعری پہ تحقیق. اور’معجزہءِ قلم’رباعیات ،قطعات و قصائد کا مجموعہ. فروری 2004 میں شائع ہوا جبکہ انکی تالیف اور تدوین”کلیات حسن” مرحوم و مغفور جناب حسن عباس زیدی کی شاعری کی کلیات 2005 میں طبع ہوئی جو کہ صفدر ھمٰدانی کے سسر یعنی ممتاز نیوز کاسٹر مہ پارہ صفدر کے والد گرامی تھے۔ اگست 2006 میں صفدر ھمٰدانی کا پہلا سفر نامہ” تہران اور گر عالمِ مشرق کا جنیوا” شائع ہوا. 2007 میں مرثیے کی دو کتابیں شائع ہوئیں جن میں سے ایک”زینت ہستی” ماں کے موضوع پر لکھا ہوا مرثیہ ہے جبکہ دوسری ”عطائے رضا” کے نام سے امام رضا علیہ السلام کا مرثیہ ہے۔ ” رو رہا ہے آسماں” مرثیوں کا ایک اور مجموعہ. مرثیہ نو تصنیف پڑھنے کے سلسلے میں وہ برطانیہ کے مختلف شہروں کے علاوہ ایران،جاپان، پاکستان (کراچی،لاہور،ملتان،مظفر گڑھ،اسلام آباد)، نیدرلینڈ، ہیگ ،ایمسٹرڈیم ،جرمنی میں فرینکفرٹ ،برلین،فشتہ، سٹٹگارٹ،فرانس،ناروے،سویڈن میں سٹاک ہولم ، ڈنمارک ،یونان، دبئی، ترکی، بلجیم،امریکہ (میامی ،ہیوسٹن،فلوریڈا ،نیوجرسی،کینڈا میں وینکور اور ٹورنٹو، شام, مصر ، فن لینڈ اور آسٹریلیا میں سڈنی اور میلبورن کے علاوہ آسٹریا میں ویانا اور کویت جیسےملکوں اورشہروں کا سفر کر چکے ہیں ۔

.....مزید پڑھئے

قارئین کی پسند

اگر آپ دوسرے قارئین کی دلچسپیوں میں تجسس رکھتے ہیں، تو ریختہ کے قارئین کی پسندیدہ

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید