aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: ممتاز شاعر، ادیب، صحافی اور مبصر
اردو ادب اور صحافت میں مہدی نظمی ایک ایسی معتبر اور ہمہ جہت شخصیت کا نام ہے جنہوں نے اپنی تحریروں کے ذریعے نہ صرف فکری رفعت کا ثبوت دیا بلکہ اخلاقی اقدار کے فروغ میں بھی نمایاں کردار ادا کیا۔ وہ بیک وقت شاعر، ادیب، مبصر اور ایک نڈر صحافی تھے۔
مہدی نظمی کی پیدائش 23 اپریل 1923ء کو لکھنؤ کے ایک معزز مگر سادہ اور مالی طور پر کمزور گھرانے (جوہری محلہ) میں ہوئی۔ ان کا تعلق ایک علمی و ادبی خاندان سے تھا۔ ان کے دادا سید فرزند حسین اور والد سید اولاد حسین صاحبِ ذوق شاعر تھے، جبکہ ان کی والدہ رضیہ بیگم معروف تصنیف تذکرۃ الصالحات کی مصنفہ تھیں۔ ان کی پرورش نواب سید رضا علی خاں رام پوری کی سرپرستی میں ہوئی، جس نے ان کی شخصیت سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
ابتدائی تعلیم ریاست رام پور میں حاصل کی، بعد ازاں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1944ء سے 1946ء کے دوران وہ لاہور میں مقیم رہے، جہاں انہوں نے مختلف فنون میں مہارت حاصل کی اور اپنے ادبی ذوق کو مزید نکھارا۔
صحافتی میدان میں بھی انہوں نے نمایاں خدمات انجام دیں۔ انہوں نے رام پور کے روزنامہ ناظم، دہلی کے جمہور، ہفت روزہ ہمت، مشیرِ پنجاب اور روزنامہ نئی دنیا سے وابستہ رہ کر صحافت کو ایک سنجیدہ اور باوقار رخ دیا۔ ماہنامہ آستانہ سے ان کی وابستگی ان کی عملی زندگی کا ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلہ ثابت ہوئی۔
مہدی نظمی کی ادبی خدمات نہایت وسیع اور متنوع ہیں۔ شاعری میں انہوں نے مسدس، طویل نظم، مثنوی، مرثیہ اور قصیدہ جیسی اصناف میں کامیاب طبع آزمائی کی۔ نثر کے میدان میں ادبی و تاریخی مضامین، ناول، ریڈیو تقاریر اور فیچرز تحریر کیے، جن میں فکری گہرائی اور اسلوب کی پختگی نمایاں ہے۔
ان کی مشہور تصانیف میں ہندوستان، بھارت درشن، ہندوستان ارمِ بے نظیر، نذرِ نانک، صحیفۂ عقیدت، نذرِ اہلِ بیت (مظلومِ کربلا)، نقشِ فریاد، ساز و آواز، حرفِ دانش، ریگِ سرخ، نہج البلاغہ کے ہزار سال، غزل غزل، منظر پس منظر اور شمع فروزاں شامل ہیں۔
تاریخ و سیاست کے موضوعات پر بھی انہوں نے اہم کام کیا، جن میں خالد بن ولید، دوست و دشمن: اندرا گاندھی اور اقدام و نظریہ قابلِ ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی ناول بھی تحریر کیے، جن میں دھوپ چاندنی، گرم خون، امِ عامر اور زلف و زنجیر خاص طور پر معروف ہیں۔
وفات: مہدی نظمی کا انتقال 30 مئی 1987ء کو ہوا۔