aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: مورخ، مترجم، مضمون نگار، نقاد، ریاضی داں اور اردو نثر کے جدید اسلوب کے معمار
مولوی ذکاء اللہ دہلوی اردو ادب کے ان نامور نثر نگاروں میں شمار ہوتے ہیں جنھوں نے انیسویں صدی کے نصفِ آخر میں اردو نثر کو قدیم، پر تکلف اور مسجع و مقفیٰ انداز سے نکال کر سادہ، رواں اور عام فہم اسلوب عطا کیا۔ وہ دورِ جدید کی اردو نثر کے معماروں میں ایک اہم اور مؤثر نام ہیں۔
مولوی ذکاء اللہ 20 اپریل 1832ء کو دہلی کے کوچہ بلاقی بیگم میں پیدا ہوئے۔ یہ وہ علمی محلہ تھا جہاں شاہ ولی اللہ، شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی اور سرسید احمد خاں جیسی عظیم شخصیات نے آنکھ کھولی۔ ان کے آباء و اجداد کا تعلق غزنی سے تھا اور خاندان علمی و دینی روایت کا حامل تھا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد انھوں نے دہلی کالج میں داخلہ لیا، جہاں ان کی ذہانت اور علمی استعداد نے جلد ہی انھیں ممتاز طلبہ میں شامل کر دیا۔ وہ ماسٹر رام چندر اور شیخ امام بخش صہبائی جیسے اساتذہ کے خاص شاگرد رہے۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ دہلی کالج میں ریاضی کے معلم مقرر ہوئے اور بعد ازاں آگرہ، مدراس، بلند شہر اور مرادآباد میں مختلف تدریسی مناصب پر فائز رہے۔ آخرکار میور سینٹرل کالج، الہ آباد میں پروفیسر مقرر ہوئے اور 1887ء میں سبکدوش ہوئے۔
مولوی ذکاء اللہ نے اپنی عمر کا بڑا حصہ تصنیف و تالیف میں صرف کیا۔ جدید تحقیق کے مطابق انھوں نے 157 کتابیں تحریر کیں، جن میں تاریخ، ریاضی، سائنس، اخلاقیات، ادب اور سوانح کے موضوعات شامل ہیں۔
وہ ایک اعلیٰ پایے کے تبصرہ نگار بھی تھے۔ علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں شائع ہونے والی متعدد کتابوں پر انھوں نے سائنٹفک اور معروضی انداز میں تبصرے لکھے۔ خاص طور پر مسدس مد و جزرِ اسلام پر ان کا تبصرہ ان کی تنقیدی بصیرت کا روشن نمونہ ہے۔
اردو انشائیہ نگاری میں بھی انھوں نے ایک الگ شناخت قائم کی۔ ان کے انشائیے معلومات، تمثیل، تشبیہ اور خیالی استعارات سے بھرپور ہوتے ہیں۔ انشائیہ “آگ” میں ان کا اسلوب دلکشی اور فکری گہرائی کا بہترین نمونہ ہے۔
مولوی ذکاء اللہ ایک ممتاز ریاضی داں بھی تھے۔ انھوں نے نہ صرف درسی بلکہ غیر درسی ریاضی کی متعدد کتابیں تصنیف کیں اور انگریزی کی اہم ریاضیاتی کتب کو اردو میں منتقل کیا، تاکہ طلبہ رٹنے کے بجائے سمجھ کر علم حاصل کر سکیں۔ ان کی اس علمی خدمت کو لارڈ نارتھ بروک سمیت متعدد ماہرینِ تعلیم نے سراہا۔
وہ علی گڑھ تحریک کے سرگرم معاون تھے اور مدرسۃ العلوم (علی گڑھ کالج) سے گہری وابستگی رکھتے تھے۔ وہ اردو کو ذریعۂ تعلیم بنانے کے زبردست حامی تھے اور مغربی علوم کو اردو میں منتقل کرنے کے لیے عمر بھر کوشاں رہے۔ ان کا ماننا تھا کہ مادری زبان ہی قومی ترقی کی بنیاد بن سکتی ہے۔
مولوی ذکاء اللہ سچے وطن پرست تھے۔ ہندوستان کی تاریخ، تہذیب اور مستقبل سے انھیں بے پناہ محبت تھی۔ وہ ادب کو محض تفریح نہیں بلکہ قوم کی اخلاقی و فکری اصلاح کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ ان کا نظریۂ ادب افادی اور اخلاقی تھا، جس کی جھلک ان کے مضامین کے مجموعوں تہذیب الاخلاق، مکارم الاخلاق اور محاسن الاخلاق میں نمایاں ہے۔
وفات: مولوی ذکاء اللہ کا انتقال 4 ذیقعد 1328ھ / 7 نومبر 1910ء بروز پیر دہلی میں ہوا۔