aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
شناخت: محقق، نقاد، استاد، خاکہ نگار، کلاسیکی اُردو ادب اور مخطوطات کے ممتاز عالم
خواجہ احمد فاروقی 30 اکتوبر 1917ء کو بچھراؤں، ضلع مراد آباد (یوپی) میں پیدا ہوئے۔ ان کا سلسلۂ نسب حضرت شاہ عبدالغفور اعظم پوری سے ملتا ہے، جو حضرت عبد القدوس گنگوہی کے خلفا اور بادشاہ بابر کے معاصرین میں شمار ہوتے تھے۔ اس روحانی و علمی خانوادے کی روایت نے ان کی شخصیت اور فکری تشکیل میں گہرا اثر ڈالا۔ ان کے والد مولوی حسن احمد مرحوم ہردوئی میں سررشتہ دار محافظ دفتر کے منصب پر فائز تھے، جبکہ خاندان کو جاہ و وجاہت اور وقار کی روایت بھی حاصل تھی۔
خواجہ احمد فاروقی کی ابتدائی تعلیم گھر پر اور بچھراؤں کے مدرسہ عباسیہ میں ہوئی۔ 1927ء میں گورنمنٹ ہائی اسکول، ہردوئی میں داخلہ لیا۔ بعد ازاں میرٹھ کالج سے انٹرمیڈیٹ اور بی اے کیا، جہاں انھوں نے انگریزی ادب، تاریخِ یورپ، تاریخِ عہدِ مغلیہ اور فارسی ادب کا سنجیدہ مطالعہ کیا۔ بی اے کے بعد انگریزی ادب میں ایم اے (سال اوّل) کا امتحان پاس کیا، پھر فارسی ادب اور اُردو (عربی ادب) میں ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں۔
1953ء میں دہلی یونیورسٹی سے ڈاکٹر سید عابد حسین کی نگرانی میں ’’مکتوباتِ اُردو کا تاریخی و ادبی ارتقا‘‘ کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی۔
خواجہ احمد فاروقی کی علمی شناخت بالخصوص کلاسیکی اُردو ادب سے وابستہ ہے۔ ان کی سب سے مشہور تصنیف ’’میر تقی میر: حیات اور شاعری‘‘ ہے، جو میر شناسی کے باب میں ایک اہم اور بحث انگیز کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اگرچہ قاضی عبدالودود سمیت بعض ناقدین نے اس میں اغلاط کی نشان دہی کی، تاہم اس کے تنقیدی مباحث اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔
ان کی دیگر تصانیف اور علمی کاموں میں کلاسیکی ادب، ذوقِ جستجو، مرزا شوق لکھنوی، مکتوباتِ اُردو: ادبی و تاریخی مطالعہ، مکتوباتی ادب کا جائزہ، نئی شاعری، اُردو میں وہابی ادب، یادِ یارِ مہرباں، یادنامہ، غدر کی کہانیاں اور عمرِ رائیگاں (خودنوشت) شامل ہیں۔ ان کے خاکوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ انھوں نے متعدد نادر کلاسیکی متون اور مخطوطات کی تدوین و ترتیب بھی انجام دی، جن میں کربل کتھا، دیوانِ میرسوز، دیوانِ قائم، مرزا غالب کے غیر مطبوعہ فارسی خطوط، غدر: جنگِ آزادی کا روزنامچہ اور قانون النساء وغیرہ شامل ہیں۔
خواجہ احمد فاروقی دہلی یونیورسٹی کے شعبۂ اُردو کے ارتقائی سفر میں ایک مرکزی حیثیت رکھتے ہیں اور اُردو تحقیق و تدریس کے فروغ میں ان کی خدمات کو نمایاں مقام حاصل ہے۔
ان کا انتقال 31 دسمبر 1995ء کو دہلی میں ہوا۔