Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف: تعارف

شناخت: ممتاز اسلامی مفکر، مؤرخ، ماہرِ قرآن و حدیث اور تحریکِ تجدیدِ دین کے علمبردار

اسلم جیراجپوری 27 جنوری 1882ء کو جیراجپور (اعظم گڑھ) میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا سلامت اللہ جیراجپوری خود ایک جید عالمِ دین تھے۔ اسلم جیراجپوری نے خالص علمی و دینی ماحول میں پرورش پائی۔ انہوں نے اپنی عملی زندگی کا آغاز لاہور کے روزنامہ 'پیسہ' سے کیا، لیکن جلد ہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ بعد ازاں، مولانا محمد علی جوہر کے اصرار پر وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ منتقل ہو گئے، جہاں انہوں نے اسلامی تاریخ اور تفسیرِ قرآن کے پروفیسر کی حیثیت سے نام پیدا کیا۔

علامہ اسلم جیراجپوری ایک زود نویس اور کثیر التصانیف ادیب تھے۔ ان کی شاہکار تصنیف 'تاریخ الامت' (آٹھ جلدیں) ہے، جس میں انہوں نے صرف ٹھوس تاریخی شواہد اور عقلی دلائل پر تکیہ کیا۔ ان کی دیگر اہم کتب میں 'تاریخ القرآن'، 'تعلیماتِ قرآن'، 'نوادرات' اور 'فاتح مصر' شامل ہیں۔ وہ قرآن کو قرآن ہی کی مدد سے سمجھنے کے قائل تھے، جس کی وجہ سے انہیں مفکرین کے ایک طبقے نے 'منکرِ حدیث' کے زمرے میں ڈالا، حالانکہ وہ اسوہ حسنہ اور سنتِ متواترہ کو یقینی مانتے تھے مگر احادیث کی تاریخی حیثیت پر اپنا ایک الگ تحقیقی مؤقف رکھتے تھے۔

ان کی شخصیت کا ایک اہم پہلو علامہ اقبال سے علمی قربت تھی۔ وہ اقبال کی فکر سے متاثر تھے اور اقبال بھی ان کے تبحرِ علمی کا احترام کرتے تھے۔ جب اقبال نے اپنی مثنوی 'اسرارِ خودی' میں حافظ شیرازی کی شاعری پر تنقید کی تو علمی حلقوں میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ اسلم جیراجپوری نے اس معاملے پر نہایت بے لاگ اور متوازن تبصرہ کیا اور اقبال کو مشورہ دیا کہ حافظ کے متعلق وہ اشعار نہ لکھتے تو بہتر ہوتا، کیونکہ اس سے اصل مسئلہ بحثوں میں دب گیا تھا۔ اقبال نے ان کے اس تبصرے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ انہوں نے 'جاوید نامہ' کی معنویت کو فارسی کی چار بڑی کتابوں پر فوقیت دی۔ علامہ اسلم جیراجپوری نے دین فہمی اور اقبال فہمی میں ناقابلِ فراموش خدمات انجام دیں۔

وفات: علامہ اسلم جیراجپوری کا انتقال 28 دسمبر 1955ء کو دہلی میں ہوا۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے