aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مصنف: تعارف

نام محمد جمال عثمانی اور تخلص جمال تھا۔ ۲۱؍اپریل ۱۹۵۱ء کو سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ ان کا آبائی وطن پانی پت ہے۔ جمال احسانی نے بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ تعلیم کے بعد ذریعہ معاش کی تلاش میں کراچی چلے آئے اور محکمۂ اطلاعات ونشریات ،سندھ سے منسلک ہوگئے۔اس کے علاوہ جمال احسانی روزنامہ’’حریت‘، روزنامہ’’سویرا‘‘ اور ’’اظہار‘‘ کراچی سے بھی وابستہ رہے جہاں انھوں نے معاون مدیر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ اپنا پرچہ’’رازدار‘‘ بھی نکالتے رہے۔وہ معاشی طور پر بہت پریشاں رہے۔ ۱۰؍فروری۱۹۹۸ء کو اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ ان کی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’ستارۂ سفر‘‘، ’’رات کے جاگے ہوئے‘‘۔ تیسرا مجموعہ ’’تارے کو مہتاب کیا‘‘، زیر ترتیب تھا کہ ان کا انتقال ہوگیا۔۱۹۸۱ء میں سوہنی دھرتی رائٹرزگلڈ ایوارڈ ملا۔ بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد دوم)،محمد شمس الحق،صفحہ:407

.....مزید پڑھئے

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے