aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
زیر نظر کتاب "طرزاحساس" اصغر ندیم سید کے تخلیقی مضامین پر مشتمل کتاب ہے۔ جس کے متعلق خود مصنف لکھتے ہیں۔ "یہ مضامین اردو میں جدید تر شعری اور ادبی رویوں کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔ یہ رویے ایک طرز احساس اور ایک تخلیقی مزاج کے بطن سے پھوٹتے ہیں۔ یہ طرز احساس شاعری، افسانے، ناول اور تنقید میں اپنے مخصوص وژن کی وجہ سے اپنی الگ پہچان رکھتا ہے۔ اس لیے آج کے ادب کو سمجھنے کے لیے سب سے پہلے اس طرز احساس کو سمجھنا ضروری ہے جو ہماری قومی، معاشرتی، تہذیبی اور ثقافتی زندگی کے پس منظر میں ترتیب پاتا ہے۔" مذکورہ کتاب اسی طرز احساس کو ادبی تحریروں کے تناظر میں سمجھانے کی کوشش ہے۔ مضامین میں بلا کی تخلیقیت ہے۔ اسلوب بیان میں روانی ہے، بعض جگہ ہلکا پھلکا مزاح قاری کو ایک اچھے انشائیہ کا لطف دیتا ہے۔
اصغر ندیم سید کا اصل نام غلام اصغر شاہ ہے۔ ان کی پیدائش 14 مئی 1949ء کو ملتان، پنجاب میں ہوئی تھی۔ وہ ایک پاکستانی ڈراما نویس، ٹی وی ڈراما مصنف اور شاعر ہیں۔ انھوں نے پاکستانی سرکاری چینل، پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک اور شالیمار ٹیلی ویژن نیٹ ورک کے لیے شو لکھا ہے۔ اردو اور پنجابی دونوں زبان پر قدرت رکھتے ہیں۔
اصغر ندیم سید کی تصانیف اس طرح ہیں: "کہانی مجھے ملی"، "ادھوری کلیات" (2014ء)، "چاند گرہن"، "آدھے چاند کی رات" (1993ء)، "نئے زمانے کی بِرہن"، "جنگل کے اس پار جنگل"، "زمین زاد کا افق"، "دریا"، "طرزِ احساس" (1988ء) اور "سید وقار عظیم: شخصیت اور فن"۔
اصغر ندیم سید کو تمغۂ حسنِ کارکردگی-2006، اور پاکستان ٹیلی ویژن نیٹ ورک کا ایوارڈ برائے بہترین مصنف سرفراز کیا جاچکا ہے۔