Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مصنف : نیر مسعود

ناشر : انجمن ترقی اردو (ہند)، دہلی

سن اشاعت : 1991

زبان : اردو

موضوعات : تحقیق و تنقید

صفحات : 112

ISBN نمبر /ISSN نمبر : 81-7160-031-x

معاون : انجمن ترقی اردو (ہند)، دہلی

یگانہ احوال و آثار
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

کتاب: تعارف

زیر تبصرہ کتاب "یگانہ احوال و آثار" نیر مسعود کی تصنیف ہے، جس میں یاس یگانہ چنگیزی کی زندگی کے کئی اہم گوشوں پر روشنی ڈالی گئی، اور خاص کر وہ گوشے جن سے آج ہم یگانہ کو یاد کرتے ہیں، ان کے معرکانہ تیور۔ جس کی ابتدا لکھنؤ کے استاد شعراء ثاقب اور عزیز سے ہوتی ہے، یگانہ نے عزیز کے کلام پر جو تنقید کی اس کے نمونے پیش کئے گئے ہیں، یگانہ نے ایسی رباعیاں کہیں جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی ہوئی، جس کا خمیازہ انہیں بھگتنا پڑا ، اور ادبی معرکہ کو انہوں نے مذہبی معرکہ بناکر اپنا نقصان کیا، کتاب ان حقائق کو بخوبی پیش کرتی ہے، لکھنؤ میں انہیں پزیرائی حاصل نہ ہوسکی اس کے اسباب و عوامل پر روشنی ڈالی گئی ہے، سید مسعود حسن رضوی ادیب اور یگانہ کے مراسم کا تذکرہ کیا گیا ہے، دونوں نے ایک دوسرے کو جو خطوط لکھے وہ پیش کئے گئے ہیں، ماہ نظارہ میرٹھ میں شائع ہونے والی یگانہ کی تحریروں کا تعارف کرایا گیا ہے،یگانہ کی تصنیفات کا تذکرہ کیا گیا ہے، اور کتابوں سرورق بھی پیش کئے گئے ہیں۔

.....مزید پڑھئے

مصنف: تعارف

شناخت: ممتاز افسانہ نگار، محقق، مترجم اور اردو فکشن کے منفرد اسلوب نگار

نیر مسعود 16 نومبر 1936ء کو لکھنؤ میں معروف ناقد اور ادیب سید مسعود حسن رضوی ’’ادیب‘‘ کے گھر پیدا ہوئے۔ انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے فارسی میں ایم اے کیا اور بعد ازاں الہ آباد یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ تدریسی زندگی کا آغاز اسلامیہ کالج بریلی سے ہوا، پھر لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی سے وابستہ ہوگئے اور 1996ء میں پروفیسر کی حیثیت سے سبکدوش ہوئے۔

نیر مسعود اردو افسانے میں اپنی منفرد، پراسرار اور علامتی فضا کے لیے خاص شہرت رکھتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں لکھنؤ کی تہذیب، زوال آمادہ معاشرت، خوابناک کیفیت اور انسانی تنہائی نہایت فنکارانہ انداز میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ ان کا شمار اردو کے اُن اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے جدید افسانے کو نئی جمالیاتی جہت عطا کی۔

ان کے افسانوی مجموعوں میں ’’سیمیا‘‘، ’’طاؤس چمن کی مینا‘‘، ’’عطرِ کافور‘‘ اور ’’گنجفہ‘‘ خاص طور پر معروف ہیں۔ ’’طاؤس چمن کی مینا‘‘ کو اردو کے اہم ترین افسانوی مجموعوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نیر مسعود نے تحقیق، تنقید اور ترجمے کے میدان میں بھی نمایاں کام کیا۔ ان کی تحقیقی و تنقیدی کتابوں میں ’’رجب علی بیگ سرور: حیات اور کارنامے‘‘، ’’مرثیہ خوانی کا فن‘‘، ’’انیس‘‘، ’’تعبیرِ غالب‘‘ اور ’’ادبستان‘‘ "افسانے کی تلاش' شامل ہیں۔ انہوں نے فرانز کافکا کے افسانوں کے تراجم بھی کیے۔

ان کی نثر اپنے مخصوص آہنگ، تہذیبی شعور اور تخلیقی رمزیت کے باعث منفرد مقام رکھتی ہے۔

ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2001ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ اور 2007ء میں سرسوتی سمان سے نوازا گیا۔

وفات: نیر مسعود کا انتقال 24 جولائی 2017ء کو لکھنؤ میں ہوا۔

.....مزید پڑھئے
For any query/comment related to this ebook, please contact us at haidar.ali@rekhta.org

مصنف کی مزید کتابیں

مصنف کی دیگر کتابیں یہاں پڑھئے۔

مزید

مقبول و معروف

مقبول و معروف اور مروج کتابیں یہاں تلاش کریں

مزید
بولیے