Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم، گڑھ

2,655 کتابیں /446 رسالے

کتب خانہ: تعارف

دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ، برصغیر کے قدیم ترین اور معتبر علمی و تحقیقی اداروں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کا قیام شبلی نعمانی کے دیرینہ خواب کی تعبیر ہے۔ علامہ شبلی نے 1910ء میں ندوۃ العلماء کے اجلاس میں اس ادارے کے قیام کا تصور پیش کیا اور اپنی موروثی جائیداد میں اس کی بنیاد رکھی، لیکن 18 نومبر 1914ء کو اس کی تکمیل سے قبل ان کا انتقال ہو گیا۔ بعد ازاں ان کے شاگردوں، خصوصاً علامہ سید سلیمان ندوی نے اس خواب کو حقیقت کا روپ دیا اور ادارے کو عالمی شہرت دلائی۔

دارالمصنفین کے قیام کا بنیادی مقصد اعلیٰ درجے کے اہلِ قلم تیار کرنا، معیاری علمی و تحقیقی کتابوں کی تصنیف، تالیف اور ترجمہ کرنا، اور ان کی اشاعت کے ذریعے علمی سرمایہ محفوظ کرنا تھا۔ اس ادارے کے بانیوں میں علامہ شبلی نعمانی کے علاوہ علامہ سید سلیمان ندوی، مولوی مسعود علی ندوی، مولانا عبدالسلام ندوی، حاجی معین الدین ندوی اور مولانا حمیدالدین فراہی شامل ہیں۔

گزشتہ ایک صدی سے زائد عرصے میں دارالمصنفین نے اسلامیات، سیرت، حدیث، فقہ، تصوف، تاریخِ اسلام، تاریخِ ہند، فلسفہ، سائنس، علمِ کلام اور اردو ادب جیسے متنوع موضوعات پر 275 سے زائد معیاری تحقیقی کتابیں شائع کی ہیں، جن میں متعدد کثیر جلدی تصانیف بھی شامل ہیں۔ ان میں سیرت النبی، سیر صحابہ، خطباتِ مدراس، رحمتِ عالم، الغزالی، الکلام اور حکیم الامت جیسی اہم تصانیف نمایاں ہیں۔ ادارے کے مختلف شعبے، جن میں دارالتصنیف، دارالاشاعت، دارالطباعت، دارالکتب اور شعبۂ ماہنامہ معارف شامل ہیں، مسلسل علمی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

ادارے کا کتب خانہ عربی، فارسی، اردو اور انگریزی زبانوں کی نادر کتابوں اور مخطوطات سے مالا مال ہے، جن میں اکبر نامہ، تزکِ جہانگیری، فرہنگِ جہانگیری، احیاء العلوم، فتاویٰ عالمگیری اور دیگر بے شمار نادر مخطوطات شامل ہیں۔ 1916ء سے مسلسل شائع ہونے والا ماہنامہ معارف اردو کے معتبر ترین علمی و تحقیقی جرائد میں شمار کیا جاتا ہے۔

دارالمصنفین شبلی اکیڈمی سے مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر ذاکر حسین اور مولانا ابوالحسن علی ندوی جیسی عظیم شخصیات وابستہ رہی ہیں۔ 1965ء میں ادارے کی گولڈن جوبلی کی تقریب ڈاکٹر ذاکر حسین کی صدارت میں منعقد ہوئی، جو اس کی علمی عظمت کا ایک اہم اعتراف تھا۔ ایک صدی سے زائد عرصے پر محیط اس ادارے کی علمی و تحقیقی خدمات نے برصغیر کے فکری ورثے کو غیر معمولی استحکام بخشا ہے، اور اس کے گراں قدر ذخیرۂ کتب و رسائل کا ایک منتخب حصہ اب ریختہ کی ڈیجیٹل لائبریری پر بھی دستیاب ہے، جہاں دنیا بھر کے قارئین اور محققین اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

...مزید پڑھئے
ترتیب بہ اعتبار فلٹر

ترتیب بہ اعتبار :   Recommended

Go to:

فلٹر سارے مٹائیں

اشاعت کا سال

سارے دیکھیں

مصنف

سارے دیکھیں

ناشر

سارے دیکھیں

درجہ بندی

زبان

سارے دیکھیں
بولیے