Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Idara-e-Adabiyat-e-Urdu, Hyderabad's Photo'

ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد

حیدر آباد, انڈیا

دکن میں اردو زبان و ادب کے فروغ کا ایک تاریخی ادارہ

دکن میں اردو زبان و ادب کے فروغ کا ایک تاریخی ادارہ

ادارہ ادبیات اردو، حیدرآباد کا تعارف

ادارۂ ادبیاتِ اردو، حیدرآباد کی بنیاد 1931ء میں معروف محقق اور ماہرِ لسانیات سید محی الدین قادری زور نے اپنے رفقائے کار عبدالقادر سروری، عبدالمجید صدیقی، عبدالقادر صدیقی اور نصیرالدین ہاشمی کے ساتھ مل کر رکھی۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد دکن میں اردو زبان و ادب، تحقیق، اشاعت اور علمی ورثے کے تحفظ کو فروغ دینا تھا، تاہم جلد ہی یہ دکن کی مشترکہ تہذیبی، لسانی اور تاریخی شناخت کے تحفظ کا ایک اہم مرکز بن گیا۔ ادارے نے اردو کو ایک ایسی زبان کے طور پر پیش کیا جو مختلف زبانوں اور تہذیبوں سے اثر قبول کرتے ہوئے دکن کی کثیرالثقافتی روایت کی نمائندگی کرتی ہے۔ جامعہ عثمانیہ کے علمی ماحول نے بھی اس ادارے کی فکری تشکیل اور تحقیقی سرگرمیوں پر گہرا اثر ڈالا۔

ادارۂ ادبیاتِ اردو نے دکنی ادب، تاریخ اور مخطوطات کی تحقیق و اشاعت میں غیر معمولی خدمات انجام دیں۔ اس کے زیرِ اہتمام 1938ء میں معروف ادبی و تحقیقی رسالہ "سب رس" جاری ہوا، جو آج بھی برصغیر کے معتبر اردو جرائد میں شمار ہوتا ہے۔ ادارے نے دکن کی ادبی تاریخ، قطب شاہی عہد، محمد قلی قطب شاہ، سراج اورنگ آبادی اور دیگر اہم شخصیات پر بنیادی تحقیقی کام کیا، نادر مخطوطات کی تدوین و اشاعت کی، اور متعدد زبانوں سے اردو میں تراجم کے ذریعے دکن کی مشترکہ تہذیبی روایت کو مضبوط کیا۔ 1948ء کے بعد ادارے نے منتشر نجی کتب خانوں سے نادر مخطوطات اور علمی ذخائر کو محفوظ کرکے دکن کے علمی ورثے کو نئی زندگی بخشی، جس کے باعث آج اس کے کتب خانے میں چالیس ہزار سے زائد نادر کتابیں اور مخطوطات محفوظ ہیں، جن سے ملک و بیرونِ ملک کے محققین استفادہ کرتے ہیں۔

ادارۂ ادبیاتِ اردو نے علمی و ادبی سرگرمیوں، تاریخی کانفرنسوں، یومِ محمد قلی قطب شاہ، سیمیناروں، اشاعتی منصوبوں اور تحقیقی خدمات کے ذریعے دکن کی جامع، ہم آہنگ اور تکثیری تہذیبی شناخت کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اس کے گراں قدر ذخیرۂ کتب اور مطبوعات کا ایک منتخب حصہ اب ریختہ کی ڈیجیٹل لائبریری پر بھی دستیاب ہے، جہاں دنیا بھر کے قارئین اور محققین اس نادر علمی و ادبی ورثے سے آن لائن استفادہ کر سکتے ہیں۔

موضوعات

Recitation

بولیے