Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر
Idris Sunsharvi's Photo'

ادریس سنسہاروی

1922 - 1984 | نوادہ, انڈیا

معروف صحافی اور رسالہ 'سہیل' کے مدیر

معروف صحافی اور رسالہ 'سہیل' کے مدیر

ادریس سنسہاروی کا تعارف

اصلی نام : حافظ محمد ادریس

پیدائش : 29 Jan 1922 | نوادہ, بہار

وفات : 25 Aug 1984 | نوادہ, بہار

رشتہ داروں : بسمل سنسہاروی گیاوی (والد)

ادریس سنسہاروی کا اصل نام حافظ محمد ادریس ہے۔ ان کی ولادت 29 جنوری 1922ء کو سنسہاری، نوادہ، بہار میں ہوئی تھی۔ ان کے والد بسمل سنسہاروی گیاوی نہ صرف عالم دین، بلکہ ماہر عروض، نامور شاعر اور مشفق استاد تھے۔ اسی سبب ادریس صاحب کی ابتدائی تعلیم بھی مذہبی بنیاد پر ہوئی لیکن وہ دور چونکہ ترقی پسندی کے عروج کا دور تھا اس لیے ادریس سنسہاروی پر بھی ترقی پسند تحریک کا گہرا اثر تھا۔ 

معروف افسانہ نگار، ناقد اور مبصر سید احمد قادری، ادریس سنسہاروی کے متعلق اس طرح اظہارِ خیال کرتے ہیں۔
”1957 سے ادریس سنسہاروی نے اپنے والد کا جاری کردہ رسالہ ’’سہیل‘‘ کی ادارت باضابطہ سنبھال لی اور اسے ترقی پسند ادب کے ترجمان کے طور پر شائع کرنا شروع کر دیا اور بہت جلدیہ رسالہ اپنی منفرد پہچان بنانے میں کامیاب ہوا اور اس زمانے کے صفِ اول کے رسالوں میں اس کا شمار ہونے لگا جس کی اہم وجہ ادریس سنسہاروی کا بے حد واضح مار کسی نظریہ اور سیاسی، سماجی و ادبی شعور کی کا رفر مائی تھی۔
اس دور میں صحافت آج کی طرح کمرشیلائز نہیں ہوئی تھی بلکہ صحافت کو لوگ ایک مشن کے طور پر قبول کرتے تھے۔ اپنی جمع پونجی لٹا کر صحافت کے ذریعہ بہتر سماج اور معاشرے کی تشکیل و تعمیر میں سرگرداں رہتے تھے۔
ادریس سنسہاروی ایسے ہی ایک صحافی تھے جنھوں نے دولت کمانے کی بجائے سیاسی، سماجی، ادبی، لسانی، معاشرتی و تہذیبی ناہمواریوں کو دور کرنے کی کوششیں کیں۔ اس سلسلے میں ادریس سنسہاروی کا بڑا واضح نظریہ تھا جس کا برملا اظہار انھوں نے اپنے ایک اداریہ میں یوں کیا تھا۔
’’اردو کے ادبی رسالے صرف جنون کے تحت جاری ہوتے ہیں، اسے جاری کرنے کے بعد وہی لوگ باقی رہتے ہیں، جو اپنا خون جلانے اور پیسہ بہانے میں لطف محسوس کرتے ہیں‘‘۔

ادریس سنسہاروی کا انتقال 25 اگست 1984ء کو ہوا اور اس ان کی تدفین کریم گنج قبرستان، گیا میں ہوئی۔

موضوعات

Recitation

بولیے