aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere
فروری 1922میں نگار کا اجراء ہوا۔ رسالہ کے سر ورق پر ’مجلہ علمی و ادبی‘ درج ہوتا تھا۔ رئیس التحریر نیاز فتحپوری تھے اور معاون مدیر کی حیثیت سے مخمور اکبرآبادی کا نام شائع ہوتا تھا۔ علامہ نیاز فتح پوری نے ترکی کی انقلابی اور رومانی شاعرہ نگار بنت عثمان سے متاثر ہوکر اس کا نام نگار رکھا تھا۔ یہ اردو کا ایک اہم رسالہ تھا۔ اس مجلے کا ارتکاز اہم ادبی، تہذیبی، مذہبی، تاریخی اور تمدنی مباحث و مسائل پر تھا۔ اس میں ایک کالم ’’مالہ و ماعلیہ ‘‘ کے عنوان سے تھا۔ جس میں 2 شعری محاسن و معائب پر بیباک گفتگو ہوتی تھی۔ اب یہ سلسلہ معدوم ہو گیا ہے جس کی وجہ سے اصلاح سخن کی روایت ختم ہو گئی۔ اس رسالے نے بھی ادبی ذہنوں کو متاثر کیا ۔ خاص طور پر نگار کے ادبی اور مذہبی مباحث سے وہ جمود ٹوٹا جو ادبی اور مذہبی معاشرے پر طاری تھا۔ علامہ نیاز فتحپوری نے نگار کو عالمانہ اور دانشورانہ رنگ و روپ عطا کیا تھا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ رسالہ صرف ادبی موضوعات اور مباحث پر مرکوز ہو بلکہ نگار میں تمام علوم و فنون کا اجتماع ان کا مطلوب و مقصود تھا۔