طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے

جگر مراد آبادی

طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے

جگر مراد آبادی

MORE BYجگر مراد آبادی

    طبیعت ان دنوں بیگانۂ غم ہوتی جاتی ہے

    مرے حصے کی گویا ہر خوشی کم ہوتی جاتی ہے

    سحر ہونے کو ہے بیدار شبنم ہوتی جاتی ہے

    خوشی منجملہ و اسباب ماتم ہوتی جاتی ہے

    قیامت کیا یہ اے حسن دو عالم ہوتی جاتی ہے

    کہ محفل تو وہی ہے دل کشی کم ہوتی جاتی ہے

    وہی مے خانہ و صہبا وہی ساغر وہی شیشہ

    مگر آواز نوشا نوش مدھم ہوتی جاتی ہے

    وہی ہیں شاہد و ساقی مگر دل بجھتا جاتا ہے

    وہی ہے شمع لیکن روشنی کم ہوتی جاتی ہے

    وہی شورش ہے لیکن جیسے موج تہ نشیں کوئی

    وہی دل ہے مگر آواز مدھم ہوتی جاتی ہے

    وہی ہے زندگی لیکن جگرؔ یہ حال ہے اپنا

    کہ جیسے زندگی سے زندگی کم ہوتی جاتی ہے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    بیگم اختر

    بیگم اختر

    شانتی ہیرانند

    شانتی ہیرانند

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY