آج انکار نہ فرمائیے آپ

رند لکھنوی

آج انکار نہ فرمائیے آپ

رند لکھنوی

MORE BY رند لکھنوی

    آج انکار نہ فرمائیے آپ

    شب کی شب گھر مرے رہ جائیے آپ

    جائیے گھر کو نہ گھبرائیے آپ

    ہم نہ مر جائیں گے بس جائیے آپ

    کھول دو شوق سے بند انگیا کے

    لیٹ کر ساتھ نہ شرمائیے آپ

    آتے ہی کہتے ہو میں جاؤں گا

    میں بھی آنے کا نہیں جائیے آپ

    ڈھونڈھتے پھریے اگر لے کے چراغ

    مجھ سا عاشق جو کہیں پائیے آپ

    عمر بھر تو نہ قدم رنجہ کیا

    آئیے اب تو نہ ترسائیے آپ

    جان مشتاق لبوں پر آئی

    کچھ وصیت ہے وہ سن جائیے آپ

    دل سمجھتا نہیں مجھ سے ناصح

    آپ سے سمجھے تو سمجھایئے آپ

    سایہ ساں شوق میں افتاں خیزاں

    ساتھ رہتا ہوں جدھر جائیے آپ

    میں دکھاؤں جو جنوں کی ہے صفت

    شان بے رحمی کی دکھلائیے آپ

    ٹکڑے ٹکڑے میں گریباں کے کروں

    پرزے پرزے مرے آڑائیے آپ

    شاد ہو روح اگر بعد فنا

    شمع و گل گور پہ بھجوائیے آپ

    جان صدقے کروں کیا مال ہے جان

    کاٹ دوں سر کو جو فرمائیے آپ

    منہ پہ منہ رکھا تو بولے کیا خوب

    پہلے منہ اپنا تو بنوایئے آپ

    غیر کٹنے لگیں بندھ جائے ہوا

    مجھ سے تکل اگر اڑوائیے آپ

    نام تک لوں نہ کبھی ہوں وہ بشر

    اب اگر حور بھی بن جائیے آپ

    ہاتھ سے رندؔ کو کھوتے ہو عبث

    کہیں ایسا نہ ہو پچھتائیے آپ

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY