آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئی

منظر بھوپالی

آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئی

منظر بھوپالی

MORE BYمنظر بھوپالی

    آنکھ بھر آئی کسی سے جو ملاقات ہوئی

    خشک موسم تھا مگر ٹوٹ کے برسات ہوئی

    دن بھی ڈوبا کہ نہیں یہ مجھے معلوم نہیں

    جس جگہ بجھ گئے آنکھوں کے دئے رات ہوئی

    کوئی حسرت کوئی ارماں کوئی خواہش ہی نہ تھی

    ایسے عالم میں مری خود سے ملاقات ہوئی

    ہو گیا اپنے پڑوسی کا پڑوسی دشمن

    آدمیت بھی یہاں نذر فسادات ہوئی

    اسی ہونی کو تو قسمت کا لکھا کہتے ہیں

    جیتنے کا جہاں موقع تھا وہیں مات ہوئی

    اس طرح گزرا ہے بچپن کہ کھلونے نہ ملے

    اور جوانی میں بڑھاپے سے ملاقات ہوئی

    مآخذ
    • کتاب : zindagii (Pg. 59)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY