آپسی باتوں کو اخبار نہیں ہونے دیا

منّان بجنوری

آپسی باتوں کو اخبار نہیں ہونے دیا

منّان بجنوری

MORE BYمنّان بجنوری

    آپسی باتوں کو اخبار نہیں ہونے دیا

    ہم نے یہ کمرہ ہوا دار نہیں ہونے دیا

    بد گمانی کو کیا چائے پلا کر رخصت

    ناشتے کا بھی طلب گار نہیں ہونے دیا

    دل کے زخموں کی خبر ہونے نہ دی اشکوں کو

    غم کا آنکھوں سے سروکار نہیں ہونے دیا

    سخت لفظوں میں بھی دیتی ہے مزا بات اس کی

    اس نے لہجے کو دل آزار نہیں ہونے دیا

    رکھ دیے ہونٹوں پہ انگلی کی طرح ہونٹ اس نے

    ایک شکوہ بھی نمودار نہیں ہونے دیا

    اس نے نادان ہو، کہہ کر ہمیں اکسایا تھا

    عمر بھر اس کو سمجھ دار نہیں ہونے دیا

    چاہتیں پائیں ہیں منانؔ وفاؤں کے طفیل

    جذبۂ عشق کو عیار نہیں ہونے دیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے