عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد

شوکت واسطی

عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد

شوکت واسطی

MORE BYشوکت واسطی

    عجیب بات ہے دن بھر کے اہتمام کے بعد

    چراغ ایک بھی روشن ہوا نہ شام کے بعد

    سناؤں میں کسے روداد شہر نا پرساں

    کہ اجنبی ہوں یہاں مدتوں قیام کے بعد

    خرد علیل تھی دور شراب سے پہلے

    قدم میں آئی تھی لغزش شکست جام کے بعد

    ستم ظریفیٔ تاریخ ہے کہ مسند گیر

    سدا خواص ہوئے انقلاب عام کے بعد

    حباب سوچ کے کیا ہم رکاب موج ہوا

    کہ بیٹھ جانا تھا جب ایک آدھ گام کے بعد

    رہے چراغ دریچے میں در کھلا رکھنا

    مسافر آن نکلتے ہیں بعض شام کے بعد

    کبھی کبھی تو ہو شوکتؔ شدید یہ احساس

    کہ ہم طیور قفس میں پڑے ہیں دام کے بعد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY