بس ہو چکا حضور یہ پردے ہٹائیے

اقبال عظیم

بس ہو چکا حضور یہ پردے ہٹائیے

اقبال عظیم

MORE BYاقبال عظیم

    بس ہو چکا حضور یہ پردے ہٹائیے

    سب منتظر ہیں سامنے تشریف لائیے

    آواز میں تو آپ کی بے شک خلوص ہے

    لیکن ذرا نقاب تو رخ سے ہٹائیے

    ہم مانتے ہیں آپ بڑے غم گسار ہیں

    لیکن یہ آستین میں کیا ہے دکھائیے

    اب قافلے کے لوگ بھی منزل شناس ہیں

    آخر کہاں کا قصد ہے کھل کر بتائیے

    بادہ کشوں کی اصل جگہ میکدے میں ہے

    کس نے کہا کہ آپ بھی منبر پہ آئیے

    Tagged Under

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY