دم بہ دم گردش دوراں کا گھمایا ہوا شخص

شہزاد نیر

دم بہ دم گردش دوراں کا گھمایا ہوا شخص

شہزاد نیر

MORE BYشہزاد نیر

    دم بہ دم گردش دوراں کا گھمایا ہوا شخص

    ایک دن حشر اٹھاتا ہے گرایا ہوا شخص

    میں تو خود پر بھی کفایت سے اسے خرچ کروں

    وہ ہے مہنگائی میں مشکل سے کمایا ہوا شخص

    یاد آتا ہے تو آتا ہی چلا جاتا ہے

    کار بے کار زمانہ میں بھلایا ہوا شخص

    دشت بے آب میں آواز نہ الفاظ کہیں

    ہر طرف دھوپ تھی پھر پیڑ کا سایا ہوا شخص

    جب ضرورت تھی اسی وقت مجھے کیوں نہ ملا

    بس اسی ضد میں گنوا بیٹھا ہوں پایا ہوا شخص

    کیا عجب خوان مقدر ہی اٹھا کر پھینکے

    ڈانٹ کر خوان مقدر سے اٹھایا ہوا شخص

    اپنی شوریدہ مزاجی کا کروں کیا نیرؔ

    روٹھ کر جا بھی چکا مان کے آیا ہوا شخص

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY