در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

مرزا غالب

در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

مرزا غالب

MORE BYمرزا غالب

    در خور قہر و غضب جب کوئی ہم سا نہ ہوا

    پھر غلط کیا ہے کہ ہم سا کوئی پیدا نہ ہوا

    بندگی میں بھی وہ آزادہ و خودبیں ہیں کہ ہم

    الٹے پھر آئے در کعبہ اگر وا نہ ہوا

    سب کو مقبول ہے دعویٰ تری یکتائی کا

    روبرو کوئی بت آئنہ سیما نہ ہوا

    کم نہیں نازش ہم نامی چشم خوباں

    تیرا بیمار برا کیا ہے گر اچھا نہ ہوا

    سینہ کا داغ ہے وہ نالہ کہ لب تک نہ گیا

    خاک کا رزق ہے وہ قطرہ کہ دریا نہ ہوا

    نام کا میرے ہے جو دکھ کہ کسی کو نہ ملا

    کام میں میرے ہے جو فتنہ کہ برپا نہ ہوا

    ہر بن مو سے دم ذکر نہ ٹپکے خوں ناب

    حمزہ کا قصہ ہوا عشق کا چرچا نہ ہوا

    قطرہ میں دجلہ دکھائی نہ دے اور جزو میں کل

    کھیل لڑکوں کا ہوا دیدۂ بینا نہ ہوا

    تھی خبر گرم کہ غالبؔ کے اڑیں گے پرزے

    دیکھنے ہم بھی گئے تھے پہ تماشا نہ ہوا

    مأخذ :
    • کتاب : Deewan-e-Ghalib Jadeed (Al-Maroof Ba Nuskha-e-Hameedia) (Pg. 192)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے