دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہا

صفی اورنگ آبادی

دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہا

صفی اورنگ آبادی

MORE BY صفی اورنگ آبادی

    دل جب سے درد عشق کے قابل نہیں رہا

    اک ناگوار چیز ہے اب دل نہیں رہا

    وہ میں نہیں رہا وہ مرا دل نہیں رہا

    اب ان کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا

    کیا التجائے دید کروں دیکھتا ہوں میں

    آئینہ بھی ہمیشہ مقابل نہیں رہا

    اب وہ خفا ہوئے ہیں تو یوں بھی ہے اک خوشی

    مرنا ہمارے واسطے مشکل نہیں رہا

    دنیا غرض کی رہ گئی اب اس سے کیا غرض

    چلئے کہ لطف شرکت محفل نہیں رہا

    سن سن کے اہل عشق و محبت کے واقعات

    دنیا کا کوئی کام بھی مشکل نہیں رہا

    دنیا کے نیک و بد پہ مری رائے کچھ نہیں

    اب تک ادھر خیال ہی مائل نہیں رہا

    مجھ سے نہ پوچھو حسرت آرائش جمال

    آئینہ بن کے ان کے مقابل نہیں رہا

    اک ناامید کے لئے اتنا نہ سوچئے

    آزردہ دل رہا بھی تو بے دل نہیں رہا

    وہ جان لے چکیں تو کوئی ان سے پوچھ لے

    اب تو کچھ اس غریب پہ فاضل نہیں رہا

    آیا نہ خواب میں بھی کبھی غیر کا خیال

    غفلت میں بھی میں آپ سے غافل نہیں رہا

    بے بندگی بھی اس کی رہی بندہ پروری

    ملتا رہا اگرچہ میں سائل نہیں رہا

    وہ ہاتھ ہیں صفیؔ مجھے اک آستیں کا سانپ

    گردن میں دوست کے جو حمائل نہیں رہا

    مآخذ:

    • کتاب : Kulliyat-e-Safi (Pg. 72)
    • Author : Safi Auranjabadi
    • مطبع : Urdu Acadami Hayderabad (2000)
    • اشاعت : 2000

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY