درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

جاوید اختر

درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

جاوید اختر

MORE BYجاوید اختر

    درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں

    زخم کیسے بھی ہوں کچھ روز میں بھر جاتے ہیں

    راستہ روکے کھڑی ہے یہی الجھن کب سے

    کوئی پوچھے تو کہیں کیا کہ کدھر جاتے ہیں

    چھت کی کڑیوں سے اترتے ہیں مرے خواب مگر

    میری دیواروں سے ٹکرا کے بکھر جاتے ہیں

    نرم الفاظ بھلی باتیں مہذب لہجے

    پہلی بارش ہی میں یہ رنگ اتر جاتے ہیں

    اس دریچے میں بھی اب کوئی نہیں اور ہم بھی

    سر جھکائے ہوئے چپ چاپ گزر جاتے ہیں

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ

    RECITATIONS

    سمیر کھیرا

    سمیر کھیرا,

    سمیر کھیرا

    درد کے پھول بھی کھلتے ہیں بکھر جاتے ہیں سمیر کھیرا

    مأخذ :
    • کتاب : tarkash (Pg. 125)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY