گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گا
گمان تک میں نہ تھا محو یاس کر دے گا
وہ یوں ملے گا کہ مجھ کو اداس کر دے گا
کرم کرے گا مرے حال پر مگر پہلے
شرارتاً وہ مجھے غم شناس کر دے گا
شگفتگیٔ چمن پر بہت غرور نہ کر
خزاں کا دور تجھے بد حواس کر دے گا
گیا وہ دور کہ جب خار بھی مہکتے تھے
یہ دور وہ ہے جو پھولوں کو ناس کر دے گا
وہ حادثہ جو ابھی میرے ساتھ گزرا ہے
سنو گے تم تو تمہیں بھی اداس کر دے گا
اسے خبر کہ مرے دونوں ہاتھ خالی ہیں
مجھے یقین ہے وہ التماس کر دے گا
- کتاب : Nawa-e-harf-e-khamoosh (Pg. 138)
- Author : Zafar Kaleem
- مطبع : Zafar Kaleem (2007)
- اشاعت : 2007
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.