ہونے لگے ہیں رستے رستے، آپس کے ٹکراؤ بہت

قیصر شمیم

ہونے لگے ہیں رستے رستے، آپس کے ٹکراؤ بہت

قیصر شمیم

MORE BYقیصر شمیم

    ہونے لگے ہیں رستے رستے، آپس کے ٹکراؤ بہت

    ایک ساتھ کے چلنے والوں میں بھی ہے الگاؤ بہت

    بہکے بہکے سے بادل ہیں کیا جانے یہ جائیں کدھر

    بدلی ہوئی ہواؤں کا ہے ان پر آج دباؤ بہت

    سوچ کا ہے یہ پھیر کہ یارو پیچ و خم کی دنیا میں

    ڈھونڈ رہے ہو ایسا رستہ جس میں نہیں گھماؤ بہت

    اپنے آپ میں الجھی ہوئی اک دنیا ہے ہر شخص یہاں

    سلجھے ہوئے ذہنوں میں بھی ہیں چھپے ہوئے الجھاؤ بہت

    میرے عہد کے انسانوں کو پڑھ لینا کوئی کھیل نہیں

    اوپر سے ہے میل محبت، اندر سے ہے کھنچاؤ بہت

    مأخذ :
    • کتاب : (Beesvin Sadi Main) Maghrabi Bengal Ke urdu Shora (Pg. 246)
    • Author : Mushtaq ahmed M.A
    • مطبع : Iqbal Ahmad And Baradars Sayed Suleh Len Kolkata (1972)
    • اشاعت : 1972

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY