اک آس کا دھندلا سایہ ہے اک پاس کا تپتا صحرا ہے

سحر انصاری

اک آس کا دھندلا سایہ ہے اک پاس کا تپتا صحرا ہے

سحر انصاری

MORE BYسحر انصاری

    اک آس کا دھندلا سایہ ہے اک پاس کا تپتا صحرا ہے

    کیا دیکھ رہے ہو آنکھوں میں ان آنکھوں میں کیا رکھا ہے

    جب کھونے کو کچھ پاس بھی تھا تب پانے کا کچھ دھیان نہ تھا

    اب سوچتے ہو کیوں سوچتے ہو کیا کھویا ہے کیا پایا ہے

    میں جھوٹ کو سچ سے کیوں بدلوں اور رات کو دن میں کیوں گھولوں

    کیا سننے والا بہرا ہے کیا دیکھنے والا اندھا ہے

    ہر خاک میں ہے گوہر غلطاں ہر گوہر میں مٹی رقصاں

    جس روپ کے سب گن گاتے ہیں وہ روپ بھی کس نے دیکھا ہے

    کس دل کی بات کہیں ہم تم کس دل کا درد سہیں ہم تم

    دل پتھر ہے دل شیشہ ہے دل صحرا ہے دل دریا ہے

    اب سارے تارے کنکر ہیں اب سارے ہیرے پتھر ہیں

    اس بستی میں کیوں آئے ہو اس بستی میں کیا رکھا ہے

    یہ مرنا جینا بھی شاید مجبوری کی دو لہریں ہیں

    کچھ سوچ کے مرنا چاہا تھا کچھ سوچ کے جینا چاہا ہے

    مآخذ :
    • کتاب : namuud (Pg. 182)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY