Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کبھی کانٹوں نے یوں چھیلی ہوائیں

ناصرہ زبیری

کبھی کانٹوں نے یوں چھیلی ہوائیں

ناصرہ زبیری

MORE BYناصرہ زبیری

    کبھی کانٹوں نے یوں چھیلی ہوائیں

    ہوئیں کچھ اور نوکیلی ہوائیں

    سنہری دھوپ اوڑھے ناچتی ہیں

    مرے آنگن میں چمکیلی ہوائیں

    مری چنری سجاتی ہیں دھنک سے

    گلابی کاسنی نیلی ہوائیں

    عجب ہے پھولتی سرسوں کا جادو

    ہرے رستے چلیں پیلی ہوائیں

    شمالی کھڑکیوں سے جھانکتی ہیں

    دسمبر کی یہ برفیلی ہوائیں

    خزاں پتوں کو لینے آ رہی ہے

    ہوئی ہیں خوف سے پیلی ہوائیں

    یہ انسانی کرم کا پھل ہیں شاید

    دھواں آلود زہریلی ہوائیں

    سلگ اٹھے ہیں موسم تشنگی کے

    بدن چھونے لگیں گیلی ہوائیں

    گئے ساون کی یادوں سے لپٹ کر

    چلی آئی ہیں کچھ سیلی ہوائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

    GET YOUR PASS
    بولیے