خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے

جاں نثاراختر

خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے

جاں نثاراختر

MORE BY جاں نثاراختر

    خود بہ خود مے ہے کہ شیشے میں بھری آوے ہے

    کس بلا کی تمہیں جادو نظری آوے ہے

    دل میں در آوے ہے ہر صبح کوئی یاد ایسے

    جوں دبے پاؤں نسیم سحری آوے ہے

    اور بھی زخم ہوئے جاتے ہیں گہرے دل کے

    ہم تو سمجھے تھے تمہیں چارہ گری آوے ہے

    ایک قطرہ بھی لہو جب نہ رہے سینے میں

    تب کہیں عشق میں کچھ بے جگری آوے ہے

    چاک داماں و گریباں کے بھی آداب ہیں کچھ

    ہر دوانے کو کہاں جامہ دری آوے ہے

    شجر عشق تو مانگے ہے لہو کے آنسو

    تب کہیں جا کے کوئی شاخ ہری آوے ہے

    تو کبھی راگ کبھی رنگ کبھی خوشبو ہے

    کیسی کیسی نہ تجھے عشوہ گری آوے ہے

    آپ اپنے کو بھلانا کوئی آسان نہیں

    بڑی مشکل سے میاں بے خبری آوے ہے

    اے مرے شہر نگاراں ترا کیا حال ہوا

    چپے چپے پہ مرے آنکھ بھری آوے ہے

    صاحبو حسن کی پہچان کوئی کھیل نہیں

    دل لہو ہو تو کہیں دیدہ وری آوے ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites