لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا

ثروت حسین

لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا

ثروت حسین

MORE BYثروت حسین

    لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا

    بادل تھا اور جل پریوں کے ساتھ رہا

    کون تھا میں یہ تو مجھ کو معلوم نہیں

    پھولوں پتوں اور دیوں کے ساتھ رہا

    ملنا اور بچھڑ جانا کسی رستے پر

    اک یہی قصہ آدمیوں کے ساتھ رہا

    وہ اک سورج صبح تلک مرے پہلو میں

    اپنی سب ناراضگیوں کے ساتھ رہا

    سب نے جانا بہت سبک بے حد شفاف

    دریا تو آلودگیوں کے ساتھ رہا

    RECITATIONS

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    نعمان شوق

    لہر لہر آوارگیوں کے ساتھ رہا نعمان شوق

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY