لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے

بیان میرٹھی

لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے

بیان میرٹھی

MORE BYبیان میرٹھی

    INTERESTING FACT

    (لسان الملک، میرٹھ: فروری 1897)

    لہو ٹپکا کسی کی آرزو سے

    ہماری آرزو ٹپکی لہو سے

    یہ ہے کس کا سویم پوچھا عدو سے

    کہ دم ہے ناک میں پھولوں کی بو سے

    وہ بچہ پرورش کرتی ہے الفت

    جو پیکاں پوروے کی طرح چوسے

    یہ ٹوٹے گی ہوائے گل سے واعظ

    مری توبہ کو کیا نسبت وضو سے

    اسے کہتے ہیں قمری طوق الفت

    چھری لپٹی ہوئی ہے یاں گلو سے

    یہ تاثیر محبت ہے کہ ٹپکا

    ہمارا خوں تمہاری گفتگو سے

    وہ ہیں کیوں حسن کے پردہ پہ نازاں

    یہ سیکھا ہے ہماری گفتگو سے

    کیا ہے دامن محشر کو افشاں

    اڑے چھینٹے یہ کس کس کے لہو سے

    سنا ہے جام تھا جمشید کے پاس

    ارے ساقی فقیروں کے کدو سے

    وہ شرمیلی نگاہیں کہہ رہی ہیں

    ہٹا دو عکس کو بھی روبرو سے

    لب گل رنگ پر ہے خال مشکیں

    مگس اور پھول کی پتی کو چوسے

    بیاںؔ خوف گنہ سے مر چکے تھے

    مگر جاں آ گئی لا تقنطو سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY