میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

احمد فراز

میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

احمد فراز

MORE BYاحمد فراز

    دلچسپ معلومات

    مقطع کا شعر احمد فراز کے کتبے پر بھی درج ہے

    میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا

    قرعۂ فال مرے نام کا اکثر نکلا

    تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے

    میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا

    میں نے اس جان بہاراں کو بہت یاد کیا

    جب کوئی پھول مری شاخ ہنر پر نکلا

    شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر

    میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا

    تو یہیں ہار گیا ہے مرے بزدل دشمن

    مجھ سے تنہا کے مقابل ترا لشکر نکلا

    میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فرازؔ

    ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    احمد فراز

    احمد فراز

    RECITATIONS

    احمد فراز

    احمد فراز

    احمد فراز

    میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا احمد فراز

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY