ملتا نہیں کسی کو تو او خانماں خراب

عالمگیر خان کیف

ملتا نہیں کسی کو تو او خانماں خراب

عالمگیر خان کیف

MORE BYعالمگیر خان کیف

    ملتا نہیں کسی کو تو او خانماں خراب

    پھرتا ہے جستجو میں تری اک جہاں خراب

    کیوں کر نہ دل سیاہ کرے عشق زلف یار

    ہوتا ہے رفتہ رفتہ دھویں سے مکاں خراب

    دام و قفس میں جا کے پھنسا ہوں میں پیشتر

    سو بار ہو چکا ہے مرا آشیاں خراب

    خود رفتہ کر دیا ہے یہ جوش بہار نے

    پھرتے ہیں بوئے گل کی طرح باغباں خراب

    بوسے کے چاٹ پر نہ زیادہ لگائیے

    کرتے ہیں آپ کس لئے میری زباں خراب

    لے چل جوں خدا کے لئے اور سمت کو

    ناقص یہاں زمیں ہے یہاں آسماں خراب

    وحشت میں کھیل ہے مجھے زنجیر توڑنا

    حداد سے کہو نہ کرے بیڑیاں خراب

    میں بوسہ مانگتا ہوں وہ دیتے ہیں گالیاں

    یاں بھی زباں خراب ہے واں بھی زباں خراب

    حرص و ہوا سے ہے دل غمگیں بھرا ہوا

    لے جاؤں پیش یار میں کیا ارمغاں خراب

    دشنام اگر یوں ہی مجھے دے گا تو رات دن

    بگڑے گا کیا مرا تری ہو کے زباں خراب

    ملتا ہے کب وہ یوسف گم گشتہ دیکھیے

    پھرتا ہوں مثل گرد رہ کارواں خراب

    دریا کے آگے اصل نہیں مشت خاک کی

    کیا ہو غبار جسم سے روح رواں خراب

    نکلے گا خط ضرور تری روئے صاف پر

    اک دن بہار باغ کرے گا خزاں خراب

    گھبرا کے کہہ نہ یار سے اے دل غم فراق

    قصے کا لطف کیا ہے اگر ہو بیاں خراب

    اے کیفؔ اس کے واسطے عالم تباہ ہے

    یوسف کی جستجو میں ہے یہ کارواں خراب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے