مجھے آگہی کا نشاں سمجھ کے مٹاؤ مت

یاسمین حمید

مجھے آگہی کا نشاں سمجھ کے مٹاؤ مت

یاسمین حمید

MORE BYیاسمین حمید

    مجھے آگہی کا نشاں سمجھ کے مٹاؤ مت

    یہ چراغ جلنے لگا ہے اس کو بجھاؤ مت

    مجھے جاگنا ہے تمام عمر اسی طرح

    مجھے صبح و شام کے سلسلے میں ملاؤ مت

    مجھے علم ہے مرے خال و خد میں کمی ہے کیا

    مجھے آئنے کا طلسم کوئی دکھاؤ مت

    میں خلوص دل کی بلندیوں کے سفر پہ ہوں

    مجھے داستان فریب کوئی سناؤ مت

    مجھے دیکھ لینے دو صبح فردا کی روشنی

    مری آنکھ سے ابھی ہاتھ اپنا ہٹاؤ مت

    وہی پیڑ ہے وہی شاخ ہے وہی نام ہے

    جو گرا ہے پھول یہاں سے اس کو اٹھاؤ مت

    مجھے تہہ میں جا کے اچھالنے ہیں گہر کئی

    میں ہوں مطمئن مجھے ڈوبنے سے بچاؤ مت

    تمہیں بے مقام رفاقتوں کی تلاش ہے

    مرا شہر شہر ثبات ہے یہاں آؤ مت

    مآخذ
    • کتاب : Pakistani Adab (Pg. 719)
    • Author : Dr. Rashid Amjad
    • مطبع : Pakistan Academy of Letters, Islambad, Pakistan (2009)
    • اشاعت : 2009

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY