رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں

لالہ مادھو رام جوہر

MORE BY لالہ مادھو رام جوہر

    رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں

    شام اودھ کی تو بنارس کی سحر رکھتے ہیں

    بھانپ ہی لیں گے اشارہ سر محفل جو کیا

    تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں

    ڈھونڈھ لیتا میں اگر اور کسی جا ہوتے

    کیا کہوں آپ دل غیر میں گھر رکھتے ہیں

    اشک قابو میں نہیں راز چھپاؤں کیوں کر

    دشمنی مجھ سے مرے دیدۂ تر رکھتے ہیں

    کیسے بے رحم ہیں صیاد الٰہی توبہ

    موسم گل میں مجھے کاٹ کے پر رکھتے ہیں

    کون ہیں ہم سے سوا ناز اٹھانے والے

    سامنے آئیں جو دل اور جگر رکھتے ہیں

    دل تو کیا چیز ہے پتھر ہو تو پانی ہو جائے

    میرے نالے ابھی اتنا تو اثر رکھتے ہیں

    چار دن کے لیے دنیا میں لڑائی کیسی

    وہ بھی کیا لوگ ہیں آپس میں شرر رکھتے ہیں

    حال دل یار کو محفل میں سناؤں کیوں کر

    مدعی کان ادھر اور ادھر رکھتے ہیں

    جلوۂ یار کسی کو نظر آتا کب ہے

    دیکھتے ہیں وہی اس کو جو نظر رکھتے ہیں

    عاشقوں پر ہے دکھانے کو عتاب اے جوہرؔ

    دل میں محبوب عنایت کی نظر رکھتے ہیں

    RECITATIONS

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    فصیح اکمل

    رات دن چین ہم اے رشک قمر رکھتے ہیں فصیح اکمل

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY