شرطوں پہ اپنی کھیلنے والے تو ہیں وہی

رؤف خیر

شرطوں پہ اپنی کھیلنے والے تو ہیں وہی

رؤف خیر

MORE BYرؤف خیر

    شرطوں پہ اپنی کھیلنے والے تو ہیں وہی

    مہرے سفید گھر میں بھی کالے تو ہیں وہی

    شاخوں پہ سانپ ہیں تو شکاری ہیں تاک میں

    سہمے پرندے ان کے نوالے تو ہیں وہی

    پہچاننے میں ہم کو تکلف ہوا انہیں

    حالانکہ اپنے جاننے والے تو ہیں وہی

    وارث بدل گئے کہ وصیت بدل گئی

    لیکن گواہ اور قبالے تو ہیں وہی

    اب ان پہ انگلیوں کے نشانات اور ہیں

    ہرچند اپنے قتل کے آلے تو ہیں وہی

    کھلواڑ کر رہے تھے جو ہم سے وہ کھل گئے

    یہ اور بات حیلے حوالے تو ہیں وہی

    ساری حیات جن کی اندھیرے میں کٹ گئی

    اندھیر ہے کہ خیرؔ جیالے تو ہیں وہی

    RECITATIONS

    رؤف خیر

    رؤف خیر

    رؤف خیر

    شرطوں پہ اپنی کھیلنے والے تو ہیں وہی رؤف خیر

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY