تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا

تہذیب حافی

تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا

تہذیب حافی

MORE BYتہذیب حافی

    تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا

    اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا

    یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں

    جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا

    اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ

    اس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا

    اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں

    چیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا

    اس کی مرضی وہ جسے پاس بٹھا لے اپنے

    اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا

    بات دریاؤں کی سورج کی نہ تیری ہے یہاں

    دو قدم جو بھی مرے ساتھ چلا بیٹھ گیا

    بزم جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص

    جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا

    RECITATIONS

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم

    Tera chup rehna mere zahen mein kya beith gaya - Tehzeeb Hafi جاوید نسیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY