تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے

ابراہیم اشکؔ

تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے

ابراہیم اشکؔ

MORE BY ابراہیم اشکؔ

    تری زمیں سے اٹھیں گے تو آسماں ہوں گے

    ہم ایسے لوگ زمانے میں پھر کہاں ہوں گے

    چلے گئے تو پکارے گی ہر صدا ہم کو

    نہ جانے کتنی زبانوں سے ہم بیاں ہوں گے

    لہو لہو کے سوا کچھ نہ دیکھ پاؤ گے

    ہمارے نقش قدم اس قدر عیاں ہوں گے

    سمیٹ لیجئے بھیگے ہوئے ہر اک پل کو

    بکھر گئے جو یہ موتی تو رائیگاں ہوں گے

    اچاٹ دل کا ٹھکانا کسی کو کیا معلوم

    ہم اپنے آپ سے بچھڑے تو پھر کہاں ہوں گے

    ہیں اپنی موج کے بہتے ہوئے سمندر ہم

    تمام دشت جنوں میں رواں دواں ہوں گے

    یہ بزم یار ہے قربان جائیے اس پر

    سنا ہے اشکؔ یہاں دل سبھی جواں ہوں گے

    ویڈیو
    This video is playing from YouTube

    Videos
    This video is playing from YouTube

    انور حسین

    انور حسین

    مآخذ:

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY