تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں

شاہین عباس

تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں

شاہین عباس

MORE BY شاہین عباس

    تجھ میں کتنا گم ہوں اور کتنا نظر آتا ہوں میں

    آتا جاتا آئنوں کو منہ دکھا جاتا ہوں میں

    اس کے بعد اگلی قیامت کیا ہے کس کو ہوش ہے

    زخم سہلاتا تھا اور اب داغ دکھلاتا ہوں میں

    نقش بر دیوار ہوں اور بات کر سکتا نہیں

    ایسی حالت میں بھی جو کہتا ہوں منواتا ہوں میں

    خاکساری ہی نہیں یہ غم گساری بھی تو ہے

    پاؤں رکھتا ہوں جہاں مٹی اٹھا لاتا ہوں میں

    حرف کے آوازۂ آخر کو کر دیتا ہوں نظم

    شعر کیا کہتا ہوں خاموشی کو پھیلتا ہوں میں

    دن ڈھلے کچھ دیر ڈھل جاتا بھی ہوں سورج کے ساتھ

    شام ہوتے ہی چراغوں سے ابھر آتا ہوں میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY