وہ چاند ہو کہ چاند سا چہرہ کوئی تو ہو

عباس تابش

وہ چاند ہو کہ چاند سا چہرہ کوئی تو ہو

عباس تابش

MORE BYعباس تابش

    وہ چاند ہو کہ چاند سا چہرہ کوئی تو ہو

    ان کھڑکیوں کے پار تماشا کوئی تو ہو

    لوگو اسی گلی میں مری عمر کٹ گئی

    مجھ کو گلی میں جاننے والا کوئی تو ہو

    مجھ کو تو اپنی ذات کا اثبات چاہئے

    ہوتا ہے اور میرے علاوہ کوئی تو ہو

    جس سمت جائیے وہی دریا ہے سامنے

    اس شہر سے فرار کا رستہ کوئی تو ہو

    اپنے سوا بھی میں کوئی آواز سن سکوں

    وہ برگ خشک ہو کہ پرندہ کوئی تو ہو

    یوں ہی خیال آتا ہے بانہوں کو دیکھ کر

    ان ٹہنیوں پہ جھولنے والا کوئی تو ہو

    ہم اس ادھیڑ بن میں محبت نہ کر سکے

    ایسا کوئی نہیں مگر ایسا کوئی تو ہو

    مشکل نہیں ہے عشق کا میدان مارنا

    لیکن ہماری طرح نہتا کوئی تو ہو

    مأخذ :
    • کتاب : Ishq Abaad (kulliyat) (Pg. 583)

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Jashn-e-Rekhta | 2-3-4 December 2022 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate, New Delhi

    GET YOUR FREE PASS
    بولیے