یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے

تہذیب حافی

یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے

تہذیب حافی

MORE BYتہذیب حافی

    یہ ایک بات سمجھنے میں رات ہو گئی ہے

    میں اس سے جیت گیا ہوں کہ مات ہو گئی ہے

    میں اب کے سال پرندوں کا دن مناؤں گا

    مری قریب کے جنگل سے بات ہو گئی ہے

    بچھڑ کے تجھ سے نہ خوش رہ سکوں گا سوچا تھا

    تری جدائی ہی وجہ نشاط ہو گئی ہے

    بدن میں ایک طرف دن طلوع میں نے کیا

    بدن کے دوسرے حصے میں رات ہو گئی ہے

    میں جنگلوں کی طرف چل پڑا ہوں چھوڑ کے گھر

    یہ کیا کہ گھر کی اداسی بھی ساتھ ہو گئی ہے

    رہے گا یاد مدینے سے واپسی کا سفر

    میں نظم لکھنے لگا تھا کہ نعت ہو گئی ہے

    RECITATIONS

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم

    جاوید نسیم

    Ye ek baat samjhne mein raat ho gai hai - Tehzeeb Hafi جاوید نسیم

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY