یہ کس دیار کے ہیں کس کے خاندان سے ہیں

رضا مورانوی

یہ کس دیار کے ہیں کس کے خاندان سے ہیں

رضا مورانوی

MORE BYرضا مورانوی

    یہ کس دیار کے ہیں کس کے خاندان سے ہیں

    اسیر ہو کے بھی جو لوگ اتنی شان سے ہیں

    ملے عروج تو مغرور مت کبھی ہونا

    بلندیوں کے سبھی راستے ڈھلان سے ہیں

    تم اپنے اونچے محل میں رہو مگر سوچو

    تمہارے سائے میں کچھ لوگ بے نشان سے ہیں

    زمین کرب کی ہر فصل کا جو مالک ہے

    ہمارے درد کے رشتے اسی کسان سے ہیں

    مہک رہے ہیں گل زخم آرزو ہر پل

    مری حیات کے سب رنگ زعفران سے ہیں

    سنا رہے ہیں وہی داستان ظلم و ستم

    ہماری آنکھ میں آنسو جو بے زبان سے ہیں

    کہاں تک آپ چھپائیں گے داستان ستم

    کتاب جسم پہ اب بھی کئی نشان سے ہیں

    یہ کون تجھ کو بچائے ہے ہر بلا سے رضاؔ

    یہ کس کے ہاتھ ترے سر پہ آسمان سے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY