جوش کا مصلی اور پانی سے استنجا

جوشؔ ملیح آبادی

جوش کا مصلی اور پانی سے استنجا

جوشؔ ملیح آبادی

MORE BY جوشؔ ملیح آبادی

    مالک رام پہلی دفعہ جوش ملیح آبادی صاحب سے ملنے گئے تو جاڑوں کا موسم تھا۔ شام کے تقریباًچھ بجے تھے ۔ اتنے میں قریب کی مسجد سے اذان کی آواز آئی تو جوش صاحب نے اپنے بیٹے سجاد کوآواز دی کہ بیٹے میرا مصلیٰ لانا ۔ مالک رام صاحب حیران ہوئے کہ جوش صاحب اور نماز؟ اتنے میں سجاد ایک بڑے ٹرے میں شراب کی بوتل، دوگلاس ، برف اور پانی لے آیا ۔ جوش صاحب نے مالک رام کو پیگ پیش کیا تو انہوں نے معذرت کی کہ میں شراب نہیں پیتا۔ اس پر جوش صاحب نے پوچھا کہ آپ کیا پیتے ہیں ؟ اس پر مالک رام صاحب نے فرمایا کہ ’’ اللہ کی بنائی ہوئی نعمت پانی پر اکتفا کرتا ہوں۔‘‘ اور جوش صاحب سے پوچھا کہ آپ پانی کا کیا کرتے ہیں تو جوش نے فرمایا کہ ’’پانی سے ہم تو صرف استنجا ء کرتے ہیں۔‘‘

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY

    Added to your favorites

    Removed from your favorites